دل کادورہ خاموشی سے بھی حملہ آور ہوسکتا ہے،سینے کادردہی واحد علامت نہیں

اچانک سانس پھولنا، ٹھنڈا پسینہ اور جبڑے میں درد؛ دل کے دورے کی اہم نشانیاں سامنے آگئیں

دل کا دورہ ایک سنگین طبی ہنگامی حالت ہے جو اس وقت پیش آتا ہے جب دل تک خون کی روانی اچانک رکاوٹ کا شکار ہوجائے۔ خون کی فراہمی متاثر ہونے سے دل کے پٹھوں کو آکسیجن نہیں ملتی اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچنا شروع ہوجاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق فوری علاج دل کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

دل کا دورہ کیوں پڑتا ہے؟

دل کے دورے کی سب سے عام وجہ کورونری آرٹری ڈیزیز ہے۔ اس بیماری میں شریانوں کی اندرونی دیواروں پر کولیسٹرول اور دیگر مواد جمع ہوکر تہہ یا پلاک بنا دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ پلاک پھٹ سکتا ہے اور اس کے گرد خون کا لوتھڑا بن کر شریان میں خون کی روانی روک سکتا ہے۔

بعض کم عام صورتوں میں دل کی شریان میں شدید اسپازم یعنی اچانک سکڑاؤ بھی خون کی فراہمی بند کرکے دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے۔

سینے کا درد اہم علامت، مگر واحد نہیں

دل کے دورے کی علامات ہر شخص میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ سب سے عام علامت سینے کے درمیان یا بائیں جانب تکلیف، دباؤ، جکڑن یا درد ہے۔ یہ کیفیت چند منٹ سے زیادہ رہ سکتی ہے، ختم ہوکر دوبارہ شروع ہوسکتی ہے اور بعض اوقات بدہضمی یا سینے کی جلن جیسی محسوس ہوتی ہے۔

دیگر اہم علامات میں

سانس لینے میں دشواری

ایک یا دونوں بازوؤں میں درد یا بے آرامی

کمر، کندھوں، گردن یا جبڑے میں تکلیف

پیٹ کے اوپری حصے میں درد یا بے آرامی

متلی یا قے

چکر آنا یا کمزوری محسوس ہونا

دل کی دھڑکن تیز یا زور سے محسوس ہونا

ٹھنڈا پسینہ آناشامل ہیں۔ بعض خواتین میں علامات مردوں سے مختلف ہوسکتی ہیں اور غیر معمولی تھکن بھی نمایاں علامت ہوسکتی ہے۔

کن افراد کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟

کچھ ایسے عوامل ہیں جنہیں قابو کرکے دل کے دورے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سگریٹ نوشی، ہائی کولیسٹرول، بلند فشار خون، ذیابیطس، جسمانی سرگرمی کی کمی، موٹاپا اور غیر صحت مند انداز میں ذہنی دباؤ شامل ہیں۔

MedlinePlus کے مطابق عمر، جنس، خاندانی تاریخ اور نسلی پس منظر ایسے عوامل ہیں جنہیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا، تاہم قابلِ تبدیلی خطرات پر قابو پانا دل کی صحت کے لیے اہم ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

ہسپتال میں ڈاکٹر مریض کی علامات اور طبی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ خون کے ٹیسٹ اور دل کی مختلف امیجنگ ٹیسٹس کی مدد سے دل کے دورے کی تشخیص کرتے ہیں۔

علاج میں کیا شامل ہوسکتا ہے؟

دل کے دورے کے علاج کا انحصار مریض کی حالت اور شریان میں موجود رکاوٹ پر ہوتا ہے۔ علاج میں خون کے لوتھڑوں کو توڑنے یا مزید بننے سے روکنے والی ادویات، آکسیجن تھراپی اور بعض صورتوں میں انجیوپلاسٹی یا کورونری بائی پاس سرجری شامل ہوسکتی ہے۔

دل کے دورے کے بعد کارڈیک ری ہیبلیٹیشن اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں بھی صحت یابی اور آئندہ خطرات کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔

بروقت اقدام زندگی بچا سکتا ہے

ماہرین کے مطابق دل کے دورے کی علامات ظاہر ہونے پر یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ تکلیف خود ختم ہوجائے گی۔ اگر کسی شخص میں دل کے دورے کی علامات پیدا ہوں تو فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے، چاہے اسے یقین نہ ہو کہ یہ دل کا دورہ ہی ہے۔ بروقت طبی امداد دل کے پٹھوں کو ہونے والے نقصان کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دل کا دورہ اور اچانک دل کا رک جانا ایک ہی کیفیت نہیں۔ دل کے دورے میں عموماً دل اچانک دھڑکنا بند نہیں کرتا، جبکہ اچانک کارڈیک اریسٹ میں دل کی دھڑکن رک جاتی ہے اور مریض بے ہوش ہوجاتا ہے۔ تاہم دل کا دورہ کارڈیک اریسٹ کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے دونوں صورتیں طبی ہنگامی حالتیں ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button