بدین کے107سرکاری اسکول ٹینٹوں اور جھونپڑیوں میں قائم، ہزاروں بچے بنیادی سہولیات سے محروم

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ پی کے)بدین کی تحصیل شہید فاضل راہو کے کئی سرکاری اسکول آج بھی پختہ عمارتوں کے بجائے کچی جھونپڑیوں ٹینٹوں اور اوطاقوں میں چل رہے ہیں ان اسکولوں میں فرنیچر کی عدم دستیابی کے باعث کئی بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جبکہ متعدد اسکولوں میں پینے کے پانی اور واش رومز جیسی بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں محکمہ تعلیم کے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق تحصیل شہید فاضل راہو میں پرائمری، مڈل اور ایلیمنٹری اور ہائر سیکنڈری سطح کے مجموعی طور پر 503 اسکول ہیں ان میں سے 12 اسکول مکمل طور پر بند ہیں جبکہ 107 اسکول ٹینٹوں اور کچی جھونپڑیوں میں چل رہے ہیں جبکہ 396 اسکولوں کو عمارتیں تو دستیاب ہیں لیکن ان میں سے متعدد اسکولوں میں پینے کے پانی اور واش رومز کی سہولت مو جود نہیں ہے جبکہ اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد تقریباً 44 ہزار بتائی جاتی ہے مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی اسکول چار دیوار، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تحصیل شہید فاضل راہو میں تعلیم کی صورتحال انتہائی خراب ہے سیکڑوں اسکول زبوں حالی کا شکار ہیں۔ کہیں اساتذہ کی کمی ہے تو کہیں ضرورت سے زیادہ اساتذہ موجود ہیں ان اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت فوری طور پر اسکولوں کی عمارتیں تعمیر اور بنیادی سہولیات فراہم کرے شہریوں اور سماجی حلقوں نے سندھ حکومت اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل شہید فاضل راہو کے خستہ حال اور بغیر عمارت والے اسکولوں کی تعمیر و مرمت کا کام فوری شروع کیا جائے جبکہ اسکولوں میں فرنیچر، پینے کے پانی، واش رومز اور چار دیواری سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں



