لانگ مارچ پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے، کل براہِ راست ملاقات طے

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) لانگ مارچ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہِ راست رابطہ ہوگیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کرلی ہے۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق حکومت کی جانب سے انہیں کل ملاقات کا پیغام موصول ہوا، جس پر انہوں نے اپوزیشن اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں حکومتی دعوت قبول کی۔ذرائع کے مطابق حکومتی اور اپوزیشن وفود کے درمیان کل دوپہر 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ملاقات ہوگی۔ ملاقات میں لانگ مارچ سمیت موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔ پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے بھی مارچ کی منظوری دے دی ہے، جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے سیاسی رابطوں کا سلسلہ جاری رہنے کی تصدیق کی گئی ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بھی آج بتایا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان لانگ مارچ کے معاملے پر ’’آف دی ریکارڈ‘‘ مشاورت جاری ہے۔اب کل ہونے والی ملاقات کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری رابطوں میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ملاقات کے نتیجے اور لانگ مارچ کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ مذاکرات کے بعد ہی واضح ہوگا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں میں تیزی آگئی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رانا ثناء اللہ نے عامر ڈوگر سے گفتگو کے دوران حکومتی اجلاس اور حکومت کی ترجیحات سے متعلق آگاہ کیا، جس کے بعد عامر ڈوگر نے حکومتی رابطے سے اپوزیشن قیادت کو آگاہ کردیا۔

تازہ رپورٹس میں بھی رانا ثناء اللہ نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آف دی ریکارڈ مذاکرات جاری ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق 4 اکتوبر کے مجوزہ احتجاج کے معاملے پر پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قیادت نے باہمی مشاورت کے بعد حکومت کو مذاکرات کے حوالے سے مثبت جواب دینے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ مذاکراتی عمل کو کسی پیشگی شرط کے بغیر شروع کرنے پر بھی اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رانا ثناء اللہ نے اپوزیشن لیڈر سے بھی رابطے کی کوشش کی تاہم بات نہ ہوسکی۔ دوسری جانب مذاکرات سے قبل اپوزیشن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جبکہ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے پہلے حکومت کی کوئی نئی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس میں لانگ مارچ کے ایجنڈے پر بھی مشاورت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق بعض اپوزیشن رہنماؤں نے لانگ مارچ کے مطالبات صرف چار نکات تک محدود رکھنے پر تحفظات کا اظہار کیا اور مہنگائی، عدلیہ کی آزادی سمیت دیگر عوامی مطالبات کو بھی ایجنڈے میں شامل کرنے کی تجویز دی۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان کی صورت میں سخت سیاسی ردعمل دینے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ تاہم رانا ثناء اللہ نے جمعرات کو کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آپشن زیر غور ہے اور اس کے لیے آئینی طریقہ کار اور پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔

دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطے اور مذاکرات کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button