وفاقی آئینی عدالت کے 106 صفحات پر مشتمل رولز پبلک کر دیئے گئے

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وفاقی آئینی عدالت کے 106 صفحات پر مشتمل رولز پبلک کردیئے گئے، جن میں توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں اور سزائے موت سے متعلق اہم قواعد وضع کیے گئے ہیں۔

رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی، جبکہ کسی بھی شخص کی جانب سے دائر درخواست پر بھی توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جاسکے گی۔

قواعد کے تحت بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر متعلقہ وکیل کے خلاف کارروائی کی جاسکے گی اور کم از کم 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاسکے گا۔

رولز میں کہا گیا ہے کہ نظرثانی درخواست کی سماعت سے قبل درخواست گزار کو 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوں گے۔ اگر نظرثانی درخواست خارج یا بے بنیاد قرار پائے تو یہ زرِ ضمانت ضبط کیا جاسکے گا۔

نظرثانی درخواست عموماً اسی بینچ کے سامنے مقرر کی جائے گی جس نے اصل فیصلہ یا حکم جاری کیا تھا۔ اصل بینچ کا کوئی جج دستیاب نہ ہونے کی صورت میں، جہاں ممکن ہو، اسی بینچ کے ایک یا زائد ججز پر مشتمل بینچ کے سامنے نظرثانی کی جائے گی۔

قواعد کے مطابق نظرثانی کے حکم کے خلاف مزید نظرثانی درخواست دائر نہیں کی جاسکے گی اور بعد میں دائر کی جانے والی نظرثانی درخواست رجسٹری میں بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست دائر ہونے کی صورت میں رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری طور پر آگاہ کرے گا۔ رولز کے مطابق نظرثانی درخواست کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا اور اس کے لیے عدالت کے الگ سے حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تاہم اپیل، نظرثانی اور رحم کی درخواست سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہوجانے کی صورت میں سزائے موت کی خودکار معطلی کا اصول لاگو نہیں ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button