گورنر راج یا ایمرجنسی کا فیصلہ صدر اور وزیراعظم کریں گے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ حالیہ ملاقات کا خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے کوئی تعلق نہیں تھا، اتحادی جماعت ہونے کے باعث پیپلزپارٹی کو قانون سازی اور پارلیمانی امور سے متعلق معمول کے مطابق اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق ان کا مؤقف آج بھی وہی ہے جو دو روز قبل تھا۔ اگر آئینی اور قانونی تقاضے پورے ہوں تو یہ ایک آئینی و قانونی طریقہ کار ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی صورت میں فیصلہ آئین کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم کی سطح پر ہوگا۔
عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ رہائی کا فیصلہ حکومت نے نہیں بلکہ عدالت نے کرنا ہے اور عدالت جو فیصلہ دے گی اسے من و عن تسلیم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مطالبہ قانونی یا جائز دائرے میں نہ آتا ہو تو اس پر نظرثانی ہونی چاہیے، جبکہ خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ انہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر وہ حکومت میں ہوتے تو ایسی صورتحال میں ان کا مؤقف کیا ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کو عوامی سطح پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے بیانات نپے تلے رکھنے چاہئیں۔
دریں اثنا، خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے پر حکومتی سطح پر مشاورت جاری ہے، تاہم یکم اکتوبر تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔



