6ہزار پاکستانی غیرقانونی طور پر دیگر ممالک گئے، ڈائریکٹر ایف آئی اے کا عدالت میں انکشاف

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)لاہور ہائیکورٹ نے ملائیشیا جانے والے شہری کو آف لوڈ کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا کہ اگر دوسرے ملک کو کسی پاکستانی شہری کے وہاں آنے پر اعتراض نہیں تو اسے پاکستان سے جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟جسٹس منور دوگل نے کیس کی سماعت کی، عدالتی حکم پر ڈائریکٹر ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران عدالت نے شہری کو آف لوڈ کرنے کی وجوہات سے متعلق استفسار کیا، جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ ملائیشیا جانے والے تقریباً 6 ہزار پاکستانی شہری غیرقانونی طور پر آگے دیگر ممالک میں منتقل ہوئے۔ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق غیرقانونی طور پر دوسرے ممالک جانے والے پاکستانی شہری ملک کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں، جس کے باعث مسافروں کی سفری دستاویزات اور ان کے سفر کے مقاصد کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
عدالت نے ریمارکس میں سوال اٹھایا کہ اگر متعلقہ دوسرے ملک کو شہری کے داخلے پر اعتراض نہیں تو اسے یہاں سے روانگی سے روکنے کی کیا وجہ ہے؟بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو سن کر اس کی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور درخواست نمٹا دی۔کیس کی سماعت جسٹس منور دوگل نے کی۔



