گورنر راج یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی؟وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت آمنے سامنے،مختلف سیاسی آپشنز زیرِ بحث

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے)وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باعث صوبے کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گئی ہے، جہاں گورنر راج، وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور دیگر آئینی و سیاسی آپشنز سے متعلق مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف قانونی آپشنز پر غور کیا گیا ہے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 23 ستمبر کو گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کے معاملے پر وزارت قانون سے قانونی آپشنز پر مشاورت کی جارہی ہے۔

دوسری جانب صوبے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت کے مستقبل، ان ہاؤس تبدیلی، وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد یا اسمبلی تحلیل کیے جانے سے متعلق مختلف باتیں گردش کررہی ہیں۔ تاہم ان میں سے کسی آپشن پر باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

سیاسی کشیدگی میں اضافہ تحریک انصاف کے اسلام آباد مارچ کی کال کے بعد ہوا تھا۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر تک ملتوی کردیا ہے۔ ڈان کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے مارچ ملتوی کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حکومت سے مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔

آئینی طور پر وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کی صورت میں اسمبلی کے ارکان مقررہ طریقہ کار کے تحت کارروائی آگے بڑھا سکتے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ کی جانب سے ایوان میں اکثریت کھونے کی صورت میں اعتماد کا ووٹ لینے کا آئینی طریقہ بھی موجود ہے۔

اس تمام صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا میں مرکز اور صوبے کے درمیان سیاسی رابطوں، مذاکرات اور آئینی اقدامات پر توجہ مرکوز ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں سامنے آنے والے باضابطہ فیصلے ہی صوبائی حکومت کے مستقبل کی سمت واضح کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button