غلام علی لاکھو کے خلاف شکایت، محکمہ صحت سندھ نے ذمہ داریاں واپس لے لیں

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے)فارماسیوٹیکل صنعت کی جانب سے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، فارما کمپنیوں کو ہراساں کرنے اور غیرقانونی مطالبات کے الزامات پر شکایت کے بعد محکمہ صحت سندھ نے کارروائی کرتے ہوئے ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے ریلیو کردیا۔
محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق غلام علی لاکھو کو محکمہ صحت کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے پاس چیف انسپکٹر آف ڈرگز سندھ کا اضافی چارج بھی تھا، جو واپس لے لیا گیا ہے۔
سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی نے غلام علی لاکھو کو موجودہ ذمہ داریوں سے ریلیو کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے بعد انہیں محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے 10 ستمبر 2026 کو چیف سیکریٹری سندھ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام کو تحریری شکایت ارسال کی تھی۔
پی پی ایم اے کی شکایت میں ڈسٹرکٹ ساؤتھ کراچی کے صوبائی ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، غیرقانونی مطالبات اور فارما کمپنیوں، ان کے مجاز ڈسٹری بیوٹرز اور سیلرز کی قانونی کاروباری سرگرمیوں میں مبینہ رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
محکمہ صحت کی جانب سے غلام علی لاکھو کو موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹانے کا اقدام ان شکایات کے بعد سامنے آیا ہے۔ تاہم شکایت میں عائد الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ محکمانہ کارروائی یا تحقیقات کے نتیجے سے واضح ہوگی۔



