ایران کا جارحیت کی صورت میں نئی فوجی ٹیکنالوجی سے جواب دینے کا اعلان

تہران(ویب ڈیسک) ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں نئی فوجی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے جواب دیا جائے گا۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور بہتر دفاعی پوزیشن میں ہے۔ ان کے بقول ایران نے غیر متناسب جنگی حکمت عملی اور مقامی سطح پر تیار کی جانے والی دفاعی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرکے اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون پہلے کے مقابلے میں زیادہ جدید اور طاقتور ہوچکے ہیں، جبکہ کسی بھی ممکنہ دشمن کارروائی کی صورت میں ایران نے بعض ’’سرپرائزز‘‘ بھی تیار کر رکھے ہیں۔
ابوالفضل شکارچی کے مطابق ایران کی غیر متناسب جنگی حکمت عملی کا مقصد بھاری اور مہنگے ہتھیاروں کا مقابلہ نسبتاً کم لاگت لیکن مؤثر دفاعی سازوسامان کے ذریعے کرنا ہے، جس سے ایرانی افواج کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سیاسی امور کے نائب علی محمدی نے بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایران بحر ہند تک امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق علی محمدی نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہیں تو امریکی بحری جہاز اور جنگی بیڑے اس علاقے میں کیوں موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کے قریب اپنا کوئی جنگی جہاز لانا چاہیے۔
علی محمدی نے مزید خبردار کیا کہ دوبارہ جنگ کی صورت میں ایران امریکی بحری جہازوں اور ڈسٹرائرز کو بحر ہند تک نشانہ بنا کر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔



