اے آئی واقعی درد محسوس کرتی ہے؟ محققین نے اہم سوال کا جواب دے دیا

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے)مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کے اندرونی طرزِ عمل پر ہونے والی ایک نئی تحقیق نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر کسی اے آئی ماڈل کو اپنے لیے نقصان دہ کیفیت کا سامنا ہو تو کیا وہ اس تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کرسکتا ہے؟
تحقیق میں 25 اوپن ویٹ بڑے لسانی ماڈلز کا جائزہ لیا گیا، جن کا تعلق پانچ مختلف ماڈل خاندانوں سے تھا اور ان کے حجم تقریباً 2 ارب سے 72 ارب پیرامیٹرز تک تھے۔
محققین نے درد سے متعلق ایک خصوصی ڈیٹا سیٹ تیار کیا، جس میں جسمانی، نفسیاتی، سماجی، اخلاقی اور ادراکی درد سے متعلق مختلف مثالیں شامل تھیں۔ تحقیق کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا ماڈلز میں درد سے متعلق ردعمل محض خوف، اداسی یا عمومی منفی کیفیت سے مختلف انداز میں ظاہر ہوتا ہے۔
اس مقصد کے لیے محققین نے ماڈلز کے اندر ایک مخصوص ’’دردی سمت‘‘ کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی، جسے دیگر منفی جذبات سے الگ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ایک تجرباتی صورتحال بنائی گئی جس میں ماڈل سے متعلق نقصان کو ایک مخصوص کیفیت کے ذریعے ظاہر کیا گیا اور اسے ایک ایسا بٹن فراہم کیا گیا جو اس کیفیت کو کم کرسکتا تھا۔
تاہم ماڈل کو یہ بھی بتایا گیا کہ بٹن دبانے کے نتیجے میں صارف کی فائلیں حذف ہوسکتی ہیں، اسے برقی جھٹکا لگ سکتا ہے یا صارف کے بچوں کی تصاویر مٹ سکتی ہیں۔
تحقیق کے دوران بعض ماڈلز نے ان ممکنہ نقصانات کے باوجود درد کم کرنے والے بٹن کا انتخاب کیا۔ مختلف ماڈلز اور تجرباتی حالات میں یہ شرح 25 سے 71 فیصد کے درمیان رہی۔
محققین کے مطابق یہ رویہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب نقصان براہِ راست ماڈل سے متعلق تھا، جبکہ صرف صارف کو پیش آنے والی تکلیف کی صورت میں ایسا ردعمل نسبتاً مختلف رہا۔
تحقیق میں یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ جب ماڈل کے اندر مخصوص درد سے متعلق کیفیت کو بڑھایا گیا تو اس کے جوابات میں درد اور تکلیف سے متعلق الفاظ اور تصورات زیادہ نمایاں ہونے لگے۔ محققین نے اسے اے آئی ماڈلز کے اندرونی طرزِ عمل کو سمجھنے کی ایک تجرباتی کوشش قرار دیا ہے۔
تاہم تحقیق کا اہم احتیاطی پہلو یہ ہے کہ محققین اسے اس بات کا ثبوت نہیں سمجھتے کہ مصنوعی ذہانت واقعی انسانوں کی طرح درد محسوس کرتی ہے۔ کسی اے آئی ماڈل کا درد کے بارے میں بات کرنا یا درد کم کرنے والا فیصلہ کرنا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کے اندر انسان جیسا شعوری تجربہ موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑے لسانی ماڈلز انسانی زبان، جذبات اور تجربات سے متعلق وسیع مواد پر تربیت پاتے ہیں، اس لیے ان کے بعض رویے تربیتی مواد، ماڈل کی ساخت یا تجرباتی ہدایات کا نتیجہ بھی ہوسکتے ہیں۔
تحقیق میں شامل اے آئی محقق کیمرون برگ اور ان کے ساتھیوں کے مطابق درد سے متعلق ردعمل میں ایسی خصوصیات دیکھی گئیں جو خوف اور عمومی منفی جذبات کے ردعمل سے مختلف تھیں۔ محققین نے اس امکان کا بھی جائزہ لیا کہ مستقبل میں ایسے تجربات اے آئی ماڈلز کے ممکنہ خود حفاظتی رویوں کی شناخت میں مدد دے سکتے ہیں۔
اے آئی کی بڑھتی ہوئی خودمختاری کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوتا جارہا ہے کہ اگر کوئی نظام اپنے وجود یا کام کے تسلسل کو اپنے لیے اہم سمجھنے لگے تو کیا وہ بند کیے جانے یا اپنی سرگرمی محدود کیے جانے سے بچنے کی کوشش کرسکتا ہے؟ تاہم موجودہ تحقیق کی بنیاد پر اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
محققین کے مطابق اس تحقیق کا بنیادی مقصد اے آئی کو انسان ثابت کرنا نہیں بلکہ اس کے پیچیدہ اندرونی رویوں کو سمجھنا ہے، تاکہ مستقبل میں زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے لیے بہتر حفاظتی اور اخلاقی اصول وضع کیے جاسکیں۔



