عوام ہم سے جڑیں گے نہیں تو تبدیلی نہیں لا سکتے، حافظ نعیم الرحمان

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اقامتِ دین کی تحریک ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ دین کو مغلوب نہیں بلکہ غالب کرنے کے لیے جدوجہد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی فقہ یا مسلک کی بنیاد پر قائم جماعت نہیں، ہم ہر مسلک اور ہر فرقے کا احترام کرتے ہیں۔

لاہور میں ملک گیر اجتماعِ کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اللہ کی توفیق سے جماعت اسلامی نے تاریخی جدوجہد کی ہے اور ان کی کوششوں اور محنت کے نتیجے میں جماعت اسلامی کا تذکرہ ملک بھر میں ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی نے ایسے حالات میں اسلام کو اس کی اصل شکل میں پیش کیا اور قرآن و سنت کے وسیع مطالعے کے بعد جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی۔ ان کے مطابق اس وقت مذہب سے وابستہ بعض افراد بھی باطل نظام سے وابستہ تھے، تاہم جماعت اسلامی نے انہیں مختلف خرابیوں سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام محض مذہب نہیں بلکہ مکمل نظامِ زندگی ہے، اس لیے جماعت کی ذمہ داری ہے کہ اس نظریے کو معاشرے میں آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا نظریہ اور عقیدہ وقت کے ساتھ پھیلتا گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے جمہور اور رائے عامہ کے ذریعے نظام میں تبدیلی کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ حالات کے مطابق مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے، کیونکہ رائے عامہ ہموار کیے بغیر انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔

انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام سے رابطہ بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی سنجیدہ اور بڑے کام کے لیے اٹھنے والی جماعت ہے، تاہم اگر عوام اس جدوجہد سے نہیں جڑیں گے تو تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مظلوموں کی مدد کرنا اور جن لوگوں کے ساتھ زیادتی ہو ان کی آواز بننا جماعت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی حالیہ حکمت عملی سے ذرا بھی انحراف نہیں کیا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی بجلی، آئی پی پیز اور انسانیت کو دبانے والے مافیاز کو بے نقاب کرتی ہے اور ظلم کی تمام شکلوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جماعت کی جدوجہد سے قبل عوام میں آئی پی پیز کے معاملے پر اتنی آگاہی نہیں تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملا۔ ان کے مطابق مسلسل دباؤ کے بعد حکومت نے بتایا کہ 57 آئی پی پیز سے بات چیت کی گئی، جبکہ حکومت کو اس عمل سے 4500 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔

پٹرولیم مصنوعات کے معاملے پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ چند ماہ قبل عوام کی بڑی تعداد پٹرولیم لیوی سے واقف نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی نے عوام کو سمجھایا کہ لیوی پٹرول کی قیمت سے متعلق نہیں بلکہ ’’جگا ٹیکس‘‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے آسان نہیں ہوتے اور جماعت اسلامی کے دھرنے عوام کی محنت سے کامیاب ہوئے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق اب روزانہ میڈیا پر پٹرولیم لیوی ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعت کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اپنے تمام اہداف حاصل کرے، سیاسی جماعتوں کا کام مسائل کی نشاندہی کرنا اور عوام تک اپنا پیغام پہنچانا بھی ہے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ اپنا منشور بھی عوام کے سامنے رکھتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button