کم عمر لڑکی سے مبینہ زیادتی، ملزم کی عدم گرفتاری پر متاثرہ خاندان کا احتجاج

بدین(رپورٹ: مرتضی میمن\جانوڈاٹ پی کے) نندو کے قریب گاؤں مولی ڈنو خاصخیلی کے رہائشی محنت کش نے اپنی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی کے ہمراہ بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کوسکی پولیس پر مبینہ غفلت کا الزام عائد کیا ہے۔
متاثرہ لڑکی کے والد نورمحمد خاصخیلی اور ان کی بیٹی یاسمین نے الزام لگایا کہ تقریباً 8 ماہ قبل عظم خاصخیلی نامی شخص مبینہ طور پر رات کے وقت ان کے گھر میں داخل ہوا اور لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی اور بعدازاں بچے کی پیدائش ہوئی۔
نورمحمد خاصخیلی کے مطابق واقعے کے بعد انہوں نے قانونی کارروائی کے لیے کوسکی تھانے میں مبینہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرایا، تاہم ملزم تاحال گرفتار نہیں ہوسکا۔ ان کا الزام ہے کہ ملزم آزاد گھوم رہا ہے اور مقدمہ واپس لینے کے لیے انہیں مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
متاثرہ خاندان نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس مبینہ طور پر ملزم کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی اور رشوت لے کر اسے گرفتاری سے بچایا جا رہا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
نورمحمد خاصخیلی کا کہنا تھا کہ وہ محنت کش اور محدود وسائل رکھنے والے افراد ہیں، اس لیے بااثر لوگوں کا مقابلہ کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
متاثرہ خاندان نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس ایس پی بدین، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بدین اور دیگر متعلقہ حکام سے معاملے کا فوری نوٹس لینے، مبینہ ملزم کی گرفتاری اور کوسکی پولیس کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
خاندان نے خبردار کیا کہ اگر مبینہ ملزم کو گرفتار کرکے انہیں تحفظ اور انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ بدین پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔



