اسکول اسپیسفک بجٹ میں مبینہ بے ضابطگیاں، خاتون ٹیچر پر تشدد کا الزام، دونوں فریقین کی جانب سے این سی درج

بدین (جانو ڈاٹ پی کے) تحصیل شہید فاضل راہو کے مختلف سرکاری اسکولوں کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اسکول اسپیسفک بجٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ چک نمبر 17 کے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول محمد بخش جتوئی میں بجٹ کی رقم نکالنے کے معاملے پر خاتون ٹیچر اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شہید فاضل راہو کی پرنسپل کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا۔

واقعے کے بعد دونوں فریقین نے گولارچی تھانے میں ایک دوسرے کے خلاف این سی درج کرا دی۔ گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول محمد بخش جتوئی کے لیے اسکول اسپیسفک بجٹ کی مد میں 2 لاکھ 53 ہزار روپے جاری کیے گئے تھے، جن میں سے 88 ہزار روپے اسکول کی مرمت کے لیے نکالے جانے کے معاملے پر اسکول میں تعینات این سی ایچ ڈی کی خاتون ٹیچر حسینہ جتوئی اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گولارچی کی پرنسپل سلیمہ خواجہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسینہ جتوئی نے الزام عائد کیا کہ پرنسپل سلیمہ خواجہ ایک خاتون ٹیچر کائنات جمالی اور اسکول ٹیچر اشفاق جمالی کے ہمراہ اسکول پہنچیں اور ان سے تلخ کلامی کی۔ ان کے مطابق پرنسپل نے الزام لگایا کہ وہ دیہاتیوں کو اسکول اسپیسفک بجٹ کے معاملے پر اکسا رہی ہیں۔

حسینہ جتوئی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے مبینہ گفتگو کی ویڈیو اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کرنا شروع کی تو پرنسپل مشتعل ہوگئیں اور مبینہ طور پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ خاتون ٹیچر کے مطابق اس دوران ان کی گود میں موجود کمسن بچہ بھی گر کر زخمی ہوگیا، جبکہ ان کا الزام ہے کہ مرد ٹیچر اشفاق جمالی نے بھی ان پر تشدد کیا۔

خاتون ٹیچر کے مطابق موقع پر موجود دیہاتیوں نے مداخلت کرکے انہیں چھڑایا، جس کے بعد وہ تھانے پہنچیں اور پرنسپل کے خلاف این سی درج کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ کمسن بچے کا علاج بھی کرایا گیا۔

حسینہ جتوئی نے محکمہ تعلیم اور این سی ایچ ڈی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے اور اسکول اسپیسفک بجٹ کے معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب اسکول بجٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تشدد کے الزامات کے حوالے سے پرنسپل سلیمہ خواجہ سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے اپنا موقف دینے سے گریز کیا۔

مزید خبریں

Back to top button