نئے اتحادکو10سالہ بحران سے نہ پرکھیں،ترک وزیر خارجہ کا مکہ دفاعی معاہدے کے مخالفین کو منہ توڑ جواب

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے مکہ دفاعی معاہدے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قائم ہونے والے دفاعی اتحاد کو یمن کے طویل بحران کی بنیاد پر ناکام قرار دینا مناسب نہیں، کیونکہ اتحاد نے ابھی عملی سفر کا آغاز کیا ہے۔

نیویارک میں ’’ترکیہ اور امریکا تعلقات: صد سالہ دور میں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پینل میں حاقان فیدان سے سوال کیا گیا کہ یمن میں حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کیا مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا امتحان نہیں اور اس اتحاد نے اس امتحان میں کیسی کارکردگی دکھائی ہے؟

حاقان فیدان نے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہال میں موجود امریکا کے سابق انقرہ سفیر جیمز جیفری کی جانب اشارہ کیا اور دریافت کیا کہ وہ فوج میں کب شامل ہوئے تھے۔ جیمز جیفری نے بتایا کہ انہیں فوج میں شامل ہوئے تقریباً 50 برس ہوچکے ہیں۔

اس پر حاقان فیدان نے سوال کیا کہ اس عرصے کے دوران نیٹو کے آرٹیکل 5 کو کتنی مرتبہ فعال ہوتے دیکھا گیا؟ حاضرین کی جانب سے جواب دیا گیا کہ صرف ایک مرتبہ۔

فیدان نے کہا کہ کسی نئے دفاعی اتحاد کو محض ایک جاری اور طویل بحران کی بنیاد پر ناکام قرار دینا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق اگر نیٹو کو اس بنیاد پر ’’کاغذی شیر‘‘ قرار دے کر تنقید نہیں کی جاتی تو نئے قائم ہونے والے اتحاد کے بارے میں بھی اسی معیار کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

ترک وزیر خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے تو ابھی آغاز کیا ہے۔‘‘ ان کے اس جواب پر ہال میں موجود افراد نے تالیاں بجائیں۔

حاقان فیدان نے مکہ دفاعی معاہدے کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد خطے کے ممالک کے درمیان ایک دوسرے کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو مضبوط بنانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

مکہ دفاعی اتحاد میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں اور معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول طے کیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر بڑھتے حملوں کے باعث یہ معاہدہ علاقائی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button