کوہاٹ حملہ، وزارت اطلاعات کا افغان سرزمین سے دہشت گردی پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزارت اطلاعات و نشریات نے کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق کوہاٹ حملہ افغانستان میں موجود خوارج سے منسلک عناصر کی جانب سے کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی جواز پیش کیا جاسکتا ہے۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کے مبینہ استعمال پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور بھرتی کے مراکز پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
حکام نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو مبینہ سنگین نتائج کی دھمکی پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو الزام تراشی کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کے تحت اپنی انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرے۔ حکام نے کہا کہ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملے کی مذمت کافی نہیں، بلکہ زبانی ہمدردی کو عملی اور قابل تصدیق اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ مذاکرات کے نام پر پاکستانی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان اپنے شہریوں، سرحدی حدود اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغان طالبان پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے دباؤ ڈالے۔



