165 تارکین وطن سے بھری کشتی چلانے والے 19 سالہ نوجوان کو 2 سال 3 ماہ قید

لندن(ویب ڈیسک) انگلش چینل کے راستے 165 تارکین وطن کو فرانس سے برطانیہ لے جانے والی گنجائش سے کہیں زیادہ بھری کشتی چلانے والے 19 سالہ نوجوان کو 2 سال 3 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے چان ماتھوک اتاک نے 23 جولائی کو 165 افراد کو لے کر انگلش چینل عبور کرنے والی کشتی چلانے کا اعتراف کیا تھا۔ کینٹربری کراؤن کورٹ نے اسے سمندری سفر کے دوران دیگر افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے جرم میں سزا سنائی۔
پراسیکیوٹر جیمز ہیریسن نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً 14 میٹر طویل ربڑ کی کشتی میں 165 افراد سوار تھے، جن میں 31 بچے بھی شامل تھے۔ سب سے کم عمر بچے کی عمر 14 سال تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سفر کے دوران کشتی کا ایک انجن بند ہوگیا جبکہ کشتی سے ہوا بھی خارج ہونے لگی تھی۔ اس کے باوجود کشتی میں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار تھے اور بنیادی حفاظتی انتظامات بھی ناکافی تھے۔
استغاثہ کے مطابق اتاک تقریباً 90 منٹ تک کشتی چلاتا ہوا فضائی نگرانی کی ویڈیو میں نظر آیا، تاہم بعد میں اس نے جیکٹ اتار کر دیگر مسافروں کے درمیان بیٹھنے کی کوشش کی تاکہ کشتی چلانے والے شخص کے طور پر شناخت سے بچ سکے۔
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق حکام نے بعد ازاں کشتی کو روک لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم کی سنگینی کے پیش نظر فوری قید کی سزا ضروری ہے۔
جج سارہ کاؤنسل نے اتاک کو بتایا کہ غیر ملکی شہری ہونے کے باعث سزا مکمل ہونے کے بعد اسے اصولی طور پر خودکار ملک بدری کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔



