اسلام آباد مارچ: خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کردی

پشاور (جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 14 ستمبر 2026 کے احکامات کی روشنی میں خیبرپختونخوا حکومت نے اسلام آباد کی جانب کسی مارچ، ریلی یا جلوس میں سرکاری افسران، ملازمین اور وسائل کے استعمال پر پابندی سے متعلق ہدایات جاری کردی ہیں۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے دفتر سے جاری آفس میمورنڈم میں تمام متعلقہ افسران کو عدالتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میمورنڈم کے مطابق کوئی سرکاری افسر اسلام آباد کی جانب جانے والے کسی مارچ، ریلی یا جلوس میں معاونت یا سہولت فراہم نہیں کرے گا۔ اگر کسی سرکاری افسر کو ایسے مارچ یا ریلی میں شرکت یا معاونت کے لیے کہا جائے تو وہ فوری طور پر چیف سیکرٹری یا انسپکٹر جنرل پولیس کو آگاہ کرے گا۔
ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے مارچ یا ریلی کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے اسلام آباد میں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، تجارتی سرگرمیوں، کاروبار، تعلیمی اداروں یا طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ پرامن اور قانونی طور پر املاک کے استعمال میں رکاوٹ بننے والی سرگرمیوں کی بھی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آفس میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب کسی مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل، عوامی فنڈز یا سرکاری افسران کو براہ راست یا بالواسطہ استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔
اسی طرح سرکاری گاڑیوں، مشینری اور دیگر سرکاری آلات کو کسی مارچ یا ریلی کی معاونت کے لیے استعمال کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ کسی سرکاری ملازم کو اسلام آباد کی جانب مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت پر مجبور، آمادہ یا پابند نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میمورنڈم کے مطابق کسی افسر کو دباؤ، ترغیب یا جبر کا سامنا ہو تو اس کی اطلاع کے لیے ہیلپ لائن 091-9210068 بھی فراہم کی گئی ہے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے دفتر نے تمام انتظامی سیکرٹریز، محکموں کے سربراہان، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران کو عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالتی حکم یا جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



