حق مہر میں 7 تولے سونا دینے کا دعویٰ ثابت نہ ہوسکا، اسلام آباد ہائیکورٹ کی درخواست خارج

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق مہر کی واپسی سے متعلق شہری کی آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
جسٹس شاہ رخ ارجمند نے شہری عامر ممتاز کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت کے مطابق نکاح نامے میں حق مہر کی رقم 2 لاکھ 50 ہزار 150 روپے درج تھی، جبکہ حق مہر کی ادائیگی سونے کے زیورات کی صورت میں ظاہر کی گئی تھی۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نکاح نامے میں 7 تولے سونے کا کوئی ذکر نہیں تھا، جبکہ صرف سونے کے زیورات وصول کرنے کا اعتراف ان کے وزن کو ثابت نہیں کرتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ حق مہر میں 7 تولے سونا دیے جانے کا دعویٰ بھی ٹھوس شواہد سے ثابت نہیں ہوا۔ درخواست گزار نے 7 تولے سونا یا اس کی موجودہ مارکیٹ قیمت واپس کرنے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کی جانب سے 2 لاکھ 50 ہزار 150 روپے حق مہر واپس کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی نقص موجود نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ آئینی درخواست شواہد کی دوبارہ جانچ کے لیے اپیل کا متبادل فورم نہیں ہے، لہٰذا درخواست خارج کی جاتی ہے۔



