ونگو میں پولیس ایکشن کے بعد بڑا موڑ، 7 افراد پولیس کے حوالے

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)ونگو میں سی آئی اے پولیس کے مبینہ چھاپے، مزاحمت اور اہلکاروں پر حملے کے معاملے میں بڑی پیش رفت، مقدمے میں نامزد 7 افراد پولیس کے حوالے کردیئے گئے، جبکہ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی اور مبینہ مذاکرات کے دعووں نے معاملے کو مزید اہم بنا دیا۔
تفصیلات کے مطابق ونگو میں سی آئی اے پولیس کی مبینہ کارروائی کے دوران پولیس اہلکاروں اور مقامی افراد کے درمیان کشیدگی کے بعد 22 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد مختلف اضلاع سے پولیس کی بھاری نفری ونگو اور گردونواح میں پہنچ گئی۔
باخبر ذرائع کے مطابق گزشتہ رات تقریباً 30 پولیس موبائلیں اٹالا گاؤں کمالھو سے تقریباً 3 کلومیٹر کے فاصلے پر الرٹ حالت میں موجود رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے علاقے میں ریڈ اور سرچ آپریشن کی تیاری کی جارہی تھی۔
ذرائع کے مطابق اسی دوران ایک بااثر فریق اور پولیس کے درمیان مبینہ طور پر مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں 10 افراد کو پولیس کے سامنے پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اختر بجیر، رمضان ہالو، عظیم ہالو، پرویز ہالو، ذوالفقار ہالو، عطاء اللہ ہالو اور اسماعیل ہالو سمیت 7 افراد کو آج صبح پولیس کے حوالے کردیا گیا، جبکہ باقی 3 افراد کو بھی پولیس کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب علاقے میں یہ چہ میگوئیاں بھی جاری ہیں کہ افراد کو پولیس کے حوالے کرنے کا معاملہ علاقے میں مبینہ طور پر جاری منشیات کے کاروبار کے خلاف کارروائی سے جوڑا جارہا ہے۔ تاہم پولیس اور کسی بااثر فریق کے درمیان مبینہ ڈیل یا منشیات کے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔پولیس کی جانب سے بھی تاحال مبینہ ڈیل یا منشیات کے کاروبار کو تحفظ دینے کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ونگو واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، پولیس کارروائی، مقدمے میں نامزد افراد اور علاقے میں مبینہ منشیات کے کاروبار سے متعلق حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔



