2005کے3قتل کا فیصلہ آگیا،40سالہ لی جیمز نارمن کو موت کی سزا دے دی گئی

ٹیکساس(جانو ڈاٹ پی کے) امریکا میں تین افراد کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے 40 سالہ لی جیمز نارمن کو مہلک انجیکشن کے ذریعے موت کی سزا دے دی گئی، امریکی ریاست ٹیکساس میں رواں برس یہ سزائے موت پر عملدرآمد کا پانچواں واقعہ ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لی جیمز نارمن کو 16 ستمبر کی شام ہنٹس وِل کی ریاستی جیل میں مہلک انجیکشن دیا گیا، جس کے بعد جیل حکام نے شام 6 بج کر 44 منٹ پر اسے مردہ قرار دیا۔
لی جیمز نارمن کو 2005 میں ٹیکساس کے شہر ایڈنا میں ایک گھر میں تین افراد کے قتل کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ مقتولین میں 24 سالہ سیموئل رابرٹس، 18 سالہ ٹفنی پیکاک اور 38 سالہ سیلسو لوپیز شامل تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق نارمن اور اس کے ساتھی کیر شان ریمی مبینہ طور پر کوکین چوری کرنے کی غرض سے گھر میں داخل ہوئے تھے، جہاں واردات کے دوران تین افراد کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔
نارمن کو قتل کے تقریباً پانچ ماہ بعد میکسیکو سے امریکا میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے قتل کے مقدمے میں جرم قبول کیا، جس کے بعد جیوری نے اسے سزائے موت سنائی۔
سزائے موت پر عملدرآمد سے قبل نارمن کے وکلا نے امریکی سپریم کورٹ سے سزا روکنے کی درخواست کی تھی۔ وکلا کا مؤقف تھا کہ استغاثہ نے مقدمے کے دوران ایسے شواہد اور دلائل پیش کیے جو ان کے مطابق غلط یا متضاد تھے، تاہم امریکی سپریم کورٹ نے سزا پر عملدرآمد روکنے کی درخواست مسترد کردی۔
جیل حکام کے مطابق آخری بیان دینے کے بارے میں پوچھے جانے پر نارمن نے انکار میں سر ہلایا، جس کے بعد اسے مہلک انجیکشن دیا گیا اور چند ہی لمحوں بعد اس کی موت کی تصدیق کردی گئی۔
یوں 2005 کے تین افراد کے قتل کے مقدمے میں تقریباً دو دہائیوں بعد لی جیمز نارمن کی سزائے موت پر عملدرآمد مکمل ہوگیا۔



