ماتلی میں چکن اور ہوٹلوں کے من مانے نرخ، شہری پریشان

ماتلی (رپورٹ اے۔ایم۔گدی) ماتلی میں چکن فروشوں اور ہوٹل مالکان کی جانب سے اشیائے خورونوش اور تیار کھانوں کے مبینہ من مانے نرخوں نے شہریوں کو پریشان کردیا ہے، صورتحال یہ ہے کہ شہر کے تقریباً ہر چوراہے پر چکن فروش کا اپنا ریٹ اور ہر ہوٹل کا اپنا نرخ نامہ دکھائی دیتا ہے جبکہ ماتلی کے معروف اور نامور ہوٹل بھی صارفین کو ریلیف دینے کے بجائے مختلف اشیاء کے بھاری نرخ وصول کرنے کی شکایات سے مبرا نہیں، شہریوں کے مطابق ماتلی کے قریبی شہروں میں چکن تقریباً400 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کے باوجود ماتلی میں مختلف دکانداروں کے ہاں 450، 480 اور 500 روپے فی کلو تک نرخ وصول کیے جارہے ہیں جبکہ بعض چکن فروشوں پر ایک کلو گوشت کی مکمل قیمت لینے کے باوجود صفائی اور کٹنگ کے نام پر وزن کم کرکے تقریباً 900 گرام تک گوشت فراہم کرنے کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں، دوسری جانب ہوٹلوں میں عام صارف کے لیے ایک وقت کا کھانا بھی مہنگا ہوتا جارہا ہے، شہریوں کے مطابق نامور ہوٹلوں میں معمولی سی مکس سلاد کی پلیٹ جس میں چند ٹکڑے کھیرے اور چار پانچ ٹکڑے پیاز کے شامل ہوتے ہیں تقریباً 100 روپے تک وصول کیے جارہے ہیں جبکہ دہی کی ایک چھوٹی پیالی کے 70 روپے تک لیے جانے کی شکایات ہیں، عام دکانوں اور منی مارکیٹ میں تقریباً 100 روپے میں دستیاب پانی کی بوتل بعض ہوٹلوں پر 150 روپے تک فروخت ہونے کی شکایات ہیں جبکہ ماتلی اور ٹنڈو محمد خان کے سنگم پر بارن لغاری چیک پوسٹ کے قریب واقع ایک معروف ہوٹل میں 100 روپے والا کولڈ ڈرنک کین 140 روپے، فلٹر پانی کی بوتل 150 روپے اور چائے کا کپ 100 روپے میں فروخت کیے جانے کی شکایات بھی شہریوں کی جانب سے سامنے آئی ہیں، اسی طرح مختلف ہوٹلوں میں دال کی پلیٹ تقریباً 250 روپے، مرغی کی کڑاہی 2400 سے 2600 روپے فی کلو اور بکرے کے گوشت کی کڑاہی 4500 سے 5000 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ روٹی کے نرخ بھی مختلف ہوٹلوں پر الگ الگ اور زائد بتائے جاتے ہیں، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب بازار میں بنیادی اشیاء کے نرخ پہلے ہی مقرر یا واضح ہوتے ہیں تو ہوٹلوں میں انہی اشیاء سے تیار ہونے والے کھانوں کے نرخوں میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے، واقفِ حال حلقوں کا کہنا ہے کہ ہوٹل کا کاروبار عمومی طور پر منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے اور بعض کاروباری افراد کے مطابق اس میں 60 فیصد تک منافع کا مارجن بھی ہوسکتا ہے، تاہم اس کے باوجود اگر صارفین سے پانی، چائے، سلاد، دہی اور تیار کھانوں کے غیر معمولی نرخ وصول کیے جائیں تو اس معاملے کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ ماتلی میں کریانہ کی دکانوں کے خلاف شکایات پر انتظامیہ کی کارروائیاں تو دکھائی دیتی ہیں لیکن چکن فروشوں اور ہوٹلوں کے نرخوں، وزن اور معیار کی اسی انداز میں چیکنگ نظر نہیں آتی، جس سے یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ عام صارف اپنی شکایت لے کر آخر کس ادارے کے پاس جائے، شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بدین، اسسٹنٹ کمشنر ماتلی اور مختیارکار ماتلی سے مطالبہ کیا ہے کہ ماتلی کے تمام چکن فروشوں اور چھوٹے بڑے ہوٹلوں کی اچانک چیکنگ کرکے نرخ ناموں، وزن، معیار، صفائی اور صارفین سے وصول کی جانے والی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے اور زائد نرخ یا کم وزن کی شکایت درست ثابت ہونے پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو مبینہ من مانی قیمتوں سے ریلیف مل سکے۔



