پمز نرسری سانحہ:14نومولود کیوں نہ بچ سکے؟انکوائری رپورٹ نے سنگین خامیاں بے نقاب کردیں

اسلام آباد(جانو ڈاٹ پی کے) پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں 26 اگست کو پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کی وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری کردی گئی، جس میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ سے لے کر ہنگامی ردعمل، فائر سیفٹی اور انتظامی نظام تک متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نرسری میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے 14 جاں بحق جبکہ صرف ایک محفوظ رہا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے 52 نکاتی تحقیقات کی بنیاد پر آگ لگنے کی وجہ، اس کے تیزی سے پھیلنے کے عوامل، بچوں کے انخلا، ہنگامی ردعمل اور انفرادی و ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا۔
🔥 آگ کی ممکنہ وجہ کیا تھی؟
نیشنل فرانزک ایجنسی کے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر انکوائری کمیٹی نے قرار دیا کہ آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 1 کے قریب موجود اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل تھی۔
رپورٹ کے مطابق غیر معمولی مقامی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا کسی مقامی برقی نقص کے باعث کیبل کی انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔
رپورٹ میں آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے، آئیسکو کی کسی بیرونی برقی خرابی یا آکسیجن لیکیج کو آگ کی وجہ قرار دینے والے شواہد کی تائید نہیں کی گئی۔ انکیوبیٹر یا وارمر بھی آگ لگنے کا ذریعہ ثابت نہیں ہوئے۔
⏱️ چند سیکنڈز میں قیامت برپا، عملہ کیا کرتا رہا؟
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تقریباً 6:38:15 بجے آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی۔ چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے فوری طور پر نومولود بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود تھے۔



