نیکو نیکو پیس ؛کم رفتار میں زیادہ صحت کی جاپانی جاگنگ تکنیک

راجہ نوید

​فٹنس کا نام آتے ہی عموماً ذہن میں تیز دوڑنے، سانس پھولنے اور شدید تھکن کا تصور ابھرتا ہے، لیکن جدید طبی تحقیقات نے اس روایتی تصور کو یکسر بدل دیا ہے۔ جاپانی ماہرین کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ رفتاربڑھانے کے بجائے رفتار کو اتنا مدہم اور ہلکا رکھا جائے کہ جسم پر اضافی دباؤ نہ پڑے اور انسان بغیر تھکے زیادہ دیر تک متحرک رہ سکے۔

​سلو جاگنگ کا سادہ سا قانون یہ ہے کہ انسان تیز چلنے کی رفتار سے بھی کم یا اس کے برابر رفتار پر ہلکی جاگنگ کرے۔ جاپانی تحقیق کار ڈاکٹر تاناکا نے اس تکنیک کو "نیکو نیکو پیس” (Niko Niko Pace) یعنی "مسکراتی رفتار” کا نام دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جاگنگ اس رفتار سے کی جائے کہ آپ کا سانس بالکل نہ پھولے اور آپ بغیر کسی دشواری کے بات چیت کر سکیں یا مسکرا سکیں۔

​طبی نقطہ نظر سے جب آپ اس ہموار اور مدہم رفتار کو برقرار رکھتے ہیں تو جسم "زون 2 کارڈیو” میں کام کرتا ہے۔ اس سے دل اور شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے، بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے اور جسمانی چربی پگھلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ تیز دوڑنے کی نسبت اس طریقہ کار میں اڑیوں کے بجائے پاؤں کے درمیانی حصے کو زمین پر رکھا جاتا ہے اور قدم چھوٹے لیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے گھٹنوں، کمر اور جوڑوں پر جھٹکا نہیں لگتا اور چوٹ کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے۔

​آہستہ جاگنگ نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ بہترین صحت اور جسمانی لياقت حاصل کرنے کے لیے جسم کو تھکانا یا سخت مشقت کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ مسلسل اور آرام دہ انداز میں متحرک رہنا ہی حقیقی فٹنس کی کنجی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button