امریکا میں ٹی ریکس کے 6 کروڑ 65 لاکھ سال پرانے قدموں کے نشانات دریافت

واشنگٹن(جانو ڈاٹ پی کے) امریکا میں ایک استاد نے کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے ایسے قدموں کے نشانات دریافت کرلیے ہیں جنہیں ممکنہ طور پر ٹی ریکس (T. rex) کے قدموں کے نشانات قرار دیا جارہا ہے۔ حیران کن دریافت اس وقت ہوئی جب استاد ایک قدیم مقام پر رضاکارانہ کھدائی میں حصہ لے رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق یہ دریافت امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا کے علاقے مارمارتھ (Marmarth) کے قریب واقع ہیل کریک فارمیشن میں قدیم آثار کی تلاش کے دوران ہوئی۔ 2025 میں ہونے والی اس کھدائی میں کینٹ ہپس بھی رضاکارانہ طور پر شریک تھے۔

کھدائی کے دوران کینٹ ہپس گھٹنوں کی سرجری کے باعث سخت ڈھلان پر چڑھنے میں دشواری محسوس کر رہے تھے، اس لیے انہوں نے اوپر جانے کے بجائے اپنے اردگرد موجود چٹانوں اور زمین کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔

اسی دوران انہیں ایک غیرمعمولی ساخت دکھائی دی۔ ابتدائی طور پر انہیں شک ہوا کہ شاید یہ کسی قدیم جانور کے قدموں کے نشانات ہوسکتے ہیں، تاہم قریب سے معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ چٹان میں تین پنجوں والے چار بڑے قدموں کے نشانات محفوظ ہیں۔

تحقیق کے مطابق ہر قدم تقریباً 3 فٹ لمبا تھا، جبکہ نشانات کا سلسلہ مجموعی طور پر تقریباً 23 فٹ تک پھیلا ہوا تھا۔ ماہرین نے بعد ازاں ان نشانات کا تفصیلی تجزیہ کیا۔

ایک سال سے زائد عرصے بعد سامنے آنے والی تحقیق میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ قدموں کے نشانات ٹی ریکس کے ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ شناخت درست ثابت ہوتی ہے تو یہ اس خطے میں ٹی ریکس کی موجودگی کے حوالے سے ایک اہم دریافت قرار دی جاسکتی ہے، کیونکہ اس سے قبل اس علاقے میں اس نوع کے قدموں کے نشانات کے شواہد سامنے نہیں آئے تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ قدموں کے نشانات تقریباً 6 کروڑ 65 لاکھ سال پرانے ہوسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی علاقے کے آس پاس ٹائرانوسار کے فوسلز بھی بڑی تعداد میں دریافت ہوچکے ہیں۔

تحقیق کے مطابق نارتھ ڈکوٹا میں ملنے والے ان نشانات کے تجزیے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ شکاری ڈائنا سور تقریباً ساڑھے 3 سے ساڑھے 4 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتا تھا، جو کسی انسان کی تیز رفتار چہل قدمی کے قریب بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اب تک بالغ ٹی ریکس کے صرف دو ایسے قدموں کے نشانات دریافت ہوئے تھے، تاہم ان سے اس ڈائنا سور کے چلنے کے انداز کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوسکی تھیں۔ نارتھ ڈکوٹا کی نئی دریافت اس حوالے سے سائنسدانوں کو اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان قدیم قدموں کے نشانات کو رواں سال کسی وقت جائے دریافت سے نکال کر ڈینور میوزیم منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جہاں انہیں محفوظ کرکے مزید سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button