لاڑکانہ میں سندھ بچاؤ مارچ پر پولیس ایکشن، بخشل تھلہو اور فوزیہ نوناری سمیت متعدد گرفتار

لاڑکانہ(رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کی جانب سے سندھ بچاؤ مارچ نکالے جانے کے دوران پولیس اور مظاہرین میں کشیدگی پیدا ہوگئی، پولیس نے مارچ میں شریک کارکنوں پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔

مظاہرین کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے احتجاجی مارچ پر کارروائی کرتے ہوئے کارکنوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر کامریڈ فوزیہ نوناری کو پولیس موبائل میں منتقل کیا گیا، جبکہ عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کے مرکزی رہنما کامریڈ بخشل تھلہو سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا۔

احتجاجی رہنماؤں نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مارچ سندھ کی تقسیم اور مبینہ طور پر غیر قانونی کینالز کی تعمیر کے خلاف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کو درپیش بدامنی کے خاتمے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنا ان کا آئینی حق ہے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کو کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا اور سندھ کے وسائل، زمین اور پانی سے متعلق معاملات پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

دوسری جانب پولیس کی جانب سے کارروائی اور گرفتاریوں کے حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے آنے پر واقعے کی مزید تفصیلات واضح ہوسکیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button