سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی کی قرارداد عوام کے فیصلے کی عکاس ہے،نثار کھوڑو

دادو(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرکے صوبے کی حدود میں تبدیلی اور نئے صوبے کے قیام کا آئینی راستہ بند کردیا ہے، اب سندھ میں نئے صوبے کی باتیں بند ہونی چاہئیں۔

کے این شاہ، دادو میں ایم آر ڈی شہداء کی برسی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ قومی اسمبلی یا سینیٹ میں نئے صوبوں کے حوالے سے ہونے والی بحث کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔ نئے صوبے کے قیام یا صوبے کی حدود میں تبدیلی کا آئینی اختیار صوبائی اسمبلی کو حاصل ہے اور اس مقصد کے لیے صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی نئے صوبوں کے حق میں کوئی قرارداد منظور کرتی ہے تو سندھ اسمبلی دوبارہ نئے صوبوں کو مسترد کرنے کی قرارداد منظور کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم بھی دو تہائی اکثریت سے ہی ممکن ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت کے پاس ایسی اکثریت موجود نہیں، اس لیے وفاقی حکومت کے پاس اپنی مرضی سے صوبے بنانے کا کوئی آئینی اختیار نہیں۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی متفقہ قرارداد سندھ کے عوام کے فیصلے کی عکاس ہے کہ وہ سندھ میں کسی نئے صوبے کے قیام کے حق میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کی باتیں کرکے سندھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وفاقی وزراء کو آئین کی بے حرمتی سے باز رہنا اور آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں تاجروں کے ڈائیلاگ پروگرام میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور ملک کو بہتر مواقع فراہم کرنے پر بات ہونی چاہیے تھی، لیکن وہاں نظام کو ری سیٹ کرنے اور نئے صوبوں کی باتیں کرکے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے کہا کہ ایک طرف پاکستان کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف نئے صوبوں کی باتیں کرکے عوام میں بے چینی پیدا کی جا رہی ہے۔ سندھ نے پاکستان بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور ملک بنانے والے صوبے کو تقسیم کرنے کی باتیں ملک توڑنے کے مترادف ہیں۔

نثار کھوڑو نے واضح کیا کہ سندھ کی وحدت کو کوئی نہیں توڑ سکتا، کراچی وفاق کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور سندھ میں نیا صوبہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ کے حقوق کا تحفظ کیا ہے، جبکہ سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد پر ووٹ نہ دینے والی ایم کیو ایم پاکستان، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے سندھ کے ساتھ بے وفائی کی۔

انہوں نے نئے صوبوں کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کے گلی کوچوں میں نکل کر عوام کے سامنے اپنا مؤقف رکھیں، پھر انہیں اندازہ ہوگا کہ سندھ کے عوام اس معاملے پر کیا رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اعلان کرتے ہیں کہ سندھ میں نیا صوبہ منظور نہیں کیا جائے گا۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ بھارت کی ایک ریاست اتر پردیش میں کروڑوں افراد آباد ہیں اور امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کی آبادی و رقبے کے حوالے سے مثالیں موجود ہیں، تو پھر سندھ ہی کو تقسیم کرنے کی بات کیوں کی جا رہی ہے۔

انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں صوبوں کو اختیارات اور وسائل کے حوالے سے محدود کرکے وفاق سے براہ راست ضلعی حکومتوں کو فنڈز فراہم کیے جاتے تھے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان اب اسی طرز کے بلدیاتی نظام کی خواہش مند ہے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ ملک کسی بھی غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہوسکتا، وفاقی حکومت غیر آئینی باتوں کے ذریعے آئین کی بے حرمتی سے گریز کرے۔ پیپلز پارٹی ملک میں جمہوریت کے تسلسل، آئین و قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور عوام کے حقوق کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت نے قربانیاں دی ہیں۔ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ دینے والے ایم آر ڈی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں کے این شاہ اور سکرنڈ کے لوگوں کو بھی شہید کیا گیا۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ کی دھرتی اور وحدت کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما عاجز دھامراہ نے کہا کہ ایم آر ڈی کے شہداء نے جمہوریت اور سیاست کی بقا کے لیے قربانیاں دیں، آج سندھ کی دھرتی کو تقسیم کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم سندھ کے عوام اپنی دھرتی کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

جلسے میں سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد بھی منظور کی گئی۔ قرارداد کی منظوری کے موقع پر شرکاء نے سندھ کی وحدت پر حملے کی ہر کوشش ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید خبریں

Back to top button