موسمیاتی خطرات سے متاثرہ علاقوں کے 25 سے زائد صحافیوں کی تربیت مکمل،اسناد تقسیم

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے)پاکستان کے موسمیاتی خطرات سے متاثرہ علاقوں کے 25 سے زیادہ صحافیوں کی تربیت کے اختتام پر شرکاء کو اسناد اور اسلام آباد کے سینیئر صحافی رزاق کھٹی کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئی ۔
اسلام آباد میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی میزبانی اور جرمن ریڈ کراس کی مالی معاونت سے منعقدہ اس دو روزہ پروگرام میں گلگت بلتستان سے جوہی اور تربت سے شاہ بندر تک کے صحافیوں نے شرکت کی تربیت میں موسمیاتی تبدیلی اور آفات کی انسانی زاویے سے رپورٹنگ، مستند ڈیٹا اور شواہد کی جانچ، اور موبائل جرنلزم کے ذریعے مؤثر ویڈیوز اور اسٹوریز تیار کرنے کی عملی مہارتیں فراہم کی گئیں عنیبہ وقار اور میری کوشش محض تکنیکی مہارتیں منتقل کرنا نہیں تھی، بلکہ شرکاء کے زاویۂ نظر میں یہ تبدیلی پیدا کرنا بھی تھی کہ موسمیاتی صحافت صرف تباہی دکھانے کا نام نہیں، اس میں پیشگی خطرات، متاثرہ انسانوں کی آواز، سائنسی شواہد، اداروں کی جواب دہی، مقامی مزاحمت اور ممکنہ حل کو سامنے لانا بھی شامل ہے اس تربیت کا سب سے اہم نتیجہ شرکاء کا اپنا تیار کردہ 12 ماہ کا ورک پلان ہے ہر صحافی نے عزم کیا کہ وہ آئندہ ایک سال تک ہر ماہ اپنے علاقے سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر کم از کم ایک اسٹوری یا ویڈیو شائع کرے گا۔ اس طرح ایک سال میں تقریباً 300 مقامی موسمیاتی اسٹوریز سامنے آسکتی ہیں، جو پاکستان کے متاثرہ اور اکثر نظرانداز کیے جانے والے علاقوں کے لوگوں کی آواز عوام اور پالیسی سازوں تک پہنچائیں گی پروگرام کی کامیابی میں سجاد کندہر مرتضیٰ تالپور، غلام رسول فاروقی اور ان کی ٹیموں نے اہم کردار ادا کیا اختتامی تقریب میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سیکریٹری جنرل محمد عبیداللہ نے شرکاء جس میں بدین پریس کلب کے صدر شوکت میمن نائب صدر عمران عباس خواجہ شامل تھے کو اسناد اور سینئر صحافی رزاق کھٹی کو تربیتی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔



