بدین کے نامور سیاسی کارکن استاد علی محمد قمبرانی انتقال کرگئے

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ / پی کے)بدین کے نامور سیاسی کارکن سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی کارکن شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے دیرینہ ساتھی استاد علی محمد قمبرانی کا کافی عرصے سے بیمار رہنے کے بعد 75 سال کی عمر میں رضاالہی سے انتقال ہو گیا ہے ان کے نماز جنازہ میں رکن صوبائی اسمبلی حاجی تاج محمد ملاح پیپلز پارٹی بدین سٹی کے جنرل سیکریٹری اصغر ملاح پیپلز پارٹی تعلقہ ٹنڈو باگو کے جنرل سیکریٹری یار محمد خاصخیلی پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم مغل سمیت بدین کے سیاسی سماجی رہنماؤں سمیت مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی مرحوم استاد علی محمد قمبرانی زمانہ طالبعلمی سے سیاسی طور پر سپاف کے پلیٹ فارم سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب پھانسی کی سزا کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پر پابندی سلاسل رہنے کے علاوہ بڑا عرصہ روپوشی گذاری اور مارشلا کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کے لیئے ایم آ ر ڈی کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا اور گرفتار ہوئے 1988 کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران پیپلز پارٹی ان بے تحاشہ قربانیاں دینے والے اور نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرنے اور شہید میر مرتضیٰ بھٹو نے جلاوطنی ختم کرکے پاکستان آ نے کے فیصلے پر محترمہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے درمیان اختلافات کے پیپلز پارٹی اور سپاف کے پرانے نظریاتی کارکنوں کی بڑی تعداد بیگم نصرت بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو شہید کے ساتھ شامل ہونے والوں استاد علی محمد قمبرانی بھی شامل ہو گئے اور 1993 کے انتخابات میں شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی آ صف علی زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کے مقابلے میں بدین کے حلقے سے قومی اسمبلی کی نشست پر انتخابی مہم کے انچارج تھے اس وقت سے لیکر مرحوم استاد علی محمد قمبرانی پیپلز پارٹی شہید بھٹو اور شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو اور بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے وفادار رہے۔



