باب المندب پر حوثیوں کا قبضہ! عالمی تجارت کے لیے بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

صنعا (جانو ڈاٹ پی کے) یمن میں جاری کشیدگی کے دوران حوثی جنگجوؤں کی جانب سے باب المندب کے اہم ساحلی علاقوں پر قبضے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئے اور بڑے بحری بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق یمنی سرکاری فورسز نے باب المندب پر واقع مرکزی جزیرے بریم سے انخلا کیا، جس کے بعد حوثی جنگجوؤں نے جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے ذباب بندرگاہ پر بھی قبضہ کرلیا ہے، جو باب المندب کے قریب ایک اہم بندرگاہ تصور کی جاتی ہے، جبکہ ساحلی علاقوں میں ان کی پیش قدمی جاری ہے۔
یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمنی ایلچی نے خبردار کیا کہ یمن میں جاری لڑائی کے اثرات صرف ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے یمن کے مغربی صوبے تعز میں اہم علاقوں کے علاوہ الخالد اور جبل النصر کے فوجی اڈوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثیوں کی پیش قدمی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں واقع المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک پہنچ گئی ہے۔
مزید برآں، بعض رپورٹس میں حوثیوں کی جانب سے المخا ایئرپورٹ پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ مزاحمت کرنے والے بعض عناصر کے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈالنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے تیل، گیس، غذائی اجناس اور دیگر اشیا پر مشتمل عالمی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس لیے اس راستے پر کسی ایک فریق کا مضبوط کنٹرول عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
یمن میں حوثیوں کی ساحلی علاقوں کی جانب پیش قدمی، سعودی عرب پر حملوں اور جوابی کارروائیوں نے تنازع کے مزید وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں اہم بحری راستے شدید کشیدگی کی زد میں ہیں۔



