یمن میں وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، محافظ زیرِحراست، طاہر العقیلی کے محصور ہونے کی اطلاعات

صنعاء(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر العقیلی کے قافلے کو صوبہ الضالع میں روکنے اور گھیراؤ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق قافلے پر حملے کے بعد وزیر دفاع کے محافظوں کو قابو کرکے حراست میں لے لیا گیا، جبکہ طاہر العقیلی کے محصور ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ بعض ذرائع کی جانب سے ان کے ممکنہ اغوا یا یرغمال بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ اور حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنوبی یمن میں سابق علیحدگی پسند گروپ کے حامیوں نے الضالع میں وزیر دفاع کے قافلے کو روکا اور بعض گاڑیوں کو آگ لگائی، تاہم سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کردیا۔

دوسری جانب حوثی گروپ سے وابستہ وزیر دفاع محمد ناصر العاطفی کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گزشتہ روز صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں یمنی فوج نے ان کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد حوثی کمانڈروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ طاہر العقیلی کی ہلاکت یا زندہ بچنے کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ یمن میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button