’خیراتی مینڈیٹ والے قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے،شرجیل میمن وفاقی وزراءپر برس پڑے

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خلاف وفاقی وزراء کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کو اٹھارہویں ترمیم یا صوبوں کے اختیارات پر اعتراض ہے تو میڈیا کے بجائے پارلیمنٹ میں آکر آئینی، قانونی اور اعداد و شمار کی بنیاد پر بات کرے۔

سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں نے صحت، تعلیم، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، اس لیے ترمیم پر تنقید کرنے والوں کو پہلے اس کے فوائد اور صوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے جناح ہسپتال اور این آئی سی وی ڈی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم سے پہلے صورتحال اور آج کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔ این آئی سی وی ڈی کو پاکستان کے بہترین طبی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ملک بھر سے ہزاروں افراد مفت علاج کے لیے آتے ہیں۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تھر کول منصوبہ صوبائی اختیارات اور سندھ کے وسائل کے مؤثر استعمال کی بڑی مثال ہے۔ تھر سے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے جو قومی گرڈ میں شامل ہو کر پورے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے میں حصہ ڈال رہی ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر نے وفاقی وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال، احسن اقبال، خواجہ آصف یا کسی اور وزیر کو اٹھارہویں ترمیم پر اعتراض ہے تو پارلیمنٹ میں آکر بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں سندھ کے نمائندے موجود ہیں جو ہر مؤقف کا آئینی، قانونی اور اعداد و شمار کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شرجیل میمن نے سیاسی طور پر سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اٹھارہویں ترمیم پر لیکچر دے رہے ہیں، وہ "فارم 47 کی پیداوار” ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کے فیصلے وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہیں عوام نے اپنے ووٹ سے منتخب کیا ہو، مصنوعی یا خیراتی مینڈیٹ پر بیٹھے افراد قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے۔

انہوں نے سندھ کے گیس اور بجلی کے مسائل بھی ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ سندھ ملک کی بڑی گیس پیداوار فراہم کرتا ہے، لیکن صوبے کو اس کے جائز حصے کی گیس بھی نہیں ملتی۔ دوسری جانب تھر سے بجلی قومی گرڈ میں جاتی ہے مگر لوڈشیڈنگ کا بوجھ بھی سندھ کے عوام برداشت کر رہے ہیں۔

سندھ میں بجلی کی تقسیم کے حوالے سے شرجیل میمن نے حیسکو اور سیپکو کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی علاقے کے چند افراد بجلی کے بل ادا نہیں کرتے تو کارروائی انہی افراد کے خلاف ہونی چاہیے، پورے گاؤں یا علاقے کو بجلی سے محروم کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

انہوں نے کہا کہ اجتماعی سزا بنیادی انسانی اور آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ شرجیل میمن کے مطابق انہوں نے تقریباً آٹھ سال قبل اسی معاملے پر سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی، مگر افسوس کہ وہ آج تک زیرِ التوا ہے۔

شرجیل میمن نے وفاقی اداروں پر زور دیا کہ واپڈا، حیسکو اور سیپکو اپنی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے مؤثر اور منصفانہ نظام وضع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند افراد کے بل ادا نہ کرنے کی سزا پورے علاقے کو دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

مزید خبریں

Back to top button