سندھ کی تقسیم کے خلاف ٹھٹھہ میں بڑا احتجاج،عوامی تحریک کی دھماکہ خیز ریلی، ’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘ کے نعرے

ٹھٹھہ (رپورٹ: جاوید لطیف میمن) سندھ کی ممکنہ تقسیم، پانی اور قدرتی وسائل کے معاملے پر عوامی تحریک سڑکوں پر نکل آئی، ٹھٹھہ میں بڑے احتجاجی مظاہرے اور شاندار ریلی کے دوران سندھ کی وحدت کے حق میں گرجدار نعرے لگائے گئے۔

عوامی تحریک کی جانب سے سندھ کی ممکنہ تقسیم، سندھ کے پانی و قدرتی وسائل اور این ایف سی ایوارڈ میں مبینہ کٹوتیوں کے خلاف ٹھٹھہ ناکہ گراؤنڈ سے رکشا اسٹاپ تک ریلی نکالی گئی، جس میں خواتین، مردوں اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہریوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

ریلی کی قیادت عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کٹیار، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سمون، مرکزی ڈپٹی سیکریٹری ایڈووکیٹ راحیلہ بھٹو، ضلعی صدر رزاق چانڈیو سمیت دیگر رہنماؤں نے کی۔

’سندھ کو تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں‘

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کراچی سمیت سندھ کی ساحلی پٹی کو انتظامی یونٹ کے نام پر سندھ سے الگ کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سندھ کی صدیوں پر محیط تہذیب، ثقافت، زبان اور شناخت کے تحفظ کے لیے عوام کو متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے سندھ کے پانی کے معاملے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دریائے سندھ سے متعلق فیصلوں اور نہروں کے منصوبوں کے ذریعے سندھ کے عوام کو پانی کے بحران سے دوچار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

’سندھ میں نیا صوبہ یا یونٹ قبول نہیں‘

عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ 1940 کی قرارداد پر عملدرآمد کے بجائے ملک کو مسلسل تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ون یونٹ کے تجربے کے نتائج ملک کے سامنے آچکے ہیں اور اب نئے انتظامی یونٹس بنانے کی کوششیں بھی عوامی رائے کے خلاف ہیں۔

رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے عوام فیصلہ دے چکے ہیں کہ صوبے میں نیا صوبہ، نیا انتظامی یونٹ یا جنرل پرویز مشرف کے دور کا مقامی نظام قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے کو نظرانداز کرنے کے نتائج ماضی میں بھی انتہائی سنگین ثابت ہوئے، اس لیے ملک میں فیصلے جمہوری اور عوامی رائے کے مطابق ہونے چاہئیں۔

’سندھ کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے‘

ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ سندھ کے عوام اپنی دھرتی کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے اور سندھ میں کسی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کی مخالفت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

’مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں‘ کے گرجدار نعرے

ریلی کے دوران عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کے کارکنوں اور شرکا نے بھرپور نعرے بازی کی۔ مظاہرین کی جانب سے ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘، ’’یہ سندھ کس کی؟ سندھیوں کی‘‘ سمیت دیگر نعرے لگائے گئے، جس سے ٹھٹھہ کی فضا گونج اٹھی۔

سندھیانی تحریک کی کارکنوں اور خواتین نے ٹھٹھہ شہر کے شاہی بازار اور مین اسٹاپ پر پمفلٹس اور ہینڈ بلز بھی تقسیم کیے، جن میں سندھ کی وحدت اور صوبے کے وسائل سے متعلق اپنے مؤقف سے شہریوں کو آگاہ کیا گیا۔

رہنماؤں نے سندھ کے عوام، نوجوانوں، طلبہ، وکلا، ادیبوں، دانشوروں، شاعروں، صحافیوں اور کاشتکاروں سمیت مختلف طبقات سے پرامن جمہوری جدوجہد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔

مزید خبریں

Back to top button