فرائیڈ یا فراڈیا؟ جنسی خبطی ” بابائے نفسیات ” کے تاریک اور گمراہ کن عقائد کا سائنسی پوسٹ مارٹم!

نہال معظم

دنیا جنہیں دہائیوں سے ’’بابائے نفسیات‘‘ مانتی آئی ہے، جن کے نام پر انسائیکلوپیڈیا کے صفحات بھرے گئے اور جن کے نظریات کو انسانی جذبات اور رویوں کو سمجھنے کے لیے اہم سمجھا گیا، وقت گزرنے کے ساتھ جدید سائنس نے انہی نظریات پر بڑے سوال اٹھا دیے ہیں۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا فرائیڈ کے نظریات واقعی مضبوط سائنسی تحقیق پر مبنی تھے یا انہوں نے اپنے زمانے کے محدود علم اور اپنے ذاتی مشاہدات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی؟

سگمنڈ فرائیڈ آسٹریا کے نیورولوجسٹ تھے۔ انیسویں صدی کے آخر میں انہوں نے Psychoanalysis یعنی نفسیاتی تجزیے کا نظریہ پیش کیا۔ ان کا خیال تھا کہ انسان کے بہت سے فیصلوں، خوف اور رویوں کے پیچھے ایسی خواہشات اور یادیں موجود ہوتی ہیں جن کا اسے خود بھی شعور نہیں ہوتا۔

یہ خیال بہت مشہور ہوا، لیکن بعد میں جدید نفسیات اور نیوروسائنس نے فرائیڈ کے کئی بنیادی نظریات کو چیلنج کیا۔

مشہور نیورولوجسٹ اور سائیکو اینالسٹ مارک سولمز نے اپنی کتاب The Only Cure: Freud and the Neuroscience of Mental Healing میں فرائیڈ کے نظریات کو جدید دماغی سائنس کی روشنی میں دیکھا ہے۔ اس بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فرائیڈ کے کچھ خیالات آج بھی قابلِ غور ہیں، لیکن ان کے کئی پرانے دعوے جدید سائنسی معیار پر پورے نہیں اترتے۔

1۔ ہر چیز کو جنسیت سے جوڑنے کا نظریہ

فرائیڈ کے سب سے متنازع نظریات میں سے ایک یہ تھا کہ انسانی زندگی کے بہت سے عام رویوں کے پیچھے جنسی خواہش بھی موجود ہوتی ہے۔

مثلاً انہوں نے بچے کے دودھ پینے اور چُسنے کو بھی ایک طرح کی جسمانی لذت سے جوڑا۔ ان کے نظریے کے مطابق بچہ صرف بھوک مٹانے کے لیے نہیں بلکہ اس عمل سے لذت حاصل کرنے کے لیے بھی دودھ چُستا ہے۔

آج ماہرین بچے کے اس رویے کو صرف جنسیت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ بچے کا چُسنا سکون، تحفظ اور ماں سے تعلق قائم کرنے کا بھی اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

یعنی فرائیڈ نے جس عمل کو ایک خاص جنسی نظریے سے جوڑا، جدید تحقیق اسے کہیں زیادہ پیچیدہ اور فطری عمل سمجھتی ہے۔

2۔ اوڈیپس کمپلیکس: بچے اور ماں کے تعلق کی عجیب تشریح

فرائیڈ کا ایک اور مشہور نظریہ ’’اوڈیپس کمپلیکس‘‘ تھا۔

ان کے مطابق ایک خاص عمر میں بچہ لاشعوری طور پر اپنی ماں کی طرف جنسی کشش محسوس کر سکتا ہے اور اپنے والد کو اپنا حریف سمجھ سکتا ہے۔

یہ نظریہ بعد میں شدید تنقید کا شکار ہوا۔ جدید نفسیات میں اسے ایسی مضبوط سائنسی حقیقت نہیں سمجھا جاتا جسے ہر بچے پر لاگو کیا جا سکے۔

یہاں فرائیڈ کے نظریات کی ایک بڑی کمزوری سامنے آتی ہے: انہوں نے بعض پیچیدہ انسانی تعلقات کے بارے میں ایسے دعوے کیے جنہیں بعد کی تحقیق اسی انداز میں ثابت نہیں کر سکی۔

3۔ دماغ اور شعور کے بارے میں پرانے خیالات

فرائیڈ نیورولوجسٹ ضرور تھے، لیکن ان کے زمانے میں دماغ کے بارے میں آج جیسا علم موجود نہیں تھا۔

اس وقت نہ جدید برین اسکین موجود تھے اور نہ دماغ کے مختلف حصوں کے کام کو سمجھنے کے لیے آج جیسی ٹیکنالوجی۔

آج سائنس جانتی ہے کہ شعور دماغ کے کسی ایک حصے میں بند نہیں ہوتا۔ دماغ کے کئی حصے مل کر شعور، جذبات، یادداشت اور ہماری ذہنی کیفیت میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اس لیے فرائیڈ کے دور کے دماغ سے متعلق تصورات کو آج کی نیوروسائنس کی روشنی میں دوبارہ دیکھنا ضروری ہے۔

4۔ خواب: کیا ہر خواب کے پیچھے کوئی دبی ہوئی خواہش ہوتی ہے؟

فرائیڈ نے خوابوں کو بھی بہت اہمیت دی۔ ان کے مطابق خواب انسان کی دبی ہوئی خواہشات اور جذبات کا اظہار ہو سکتے ہیں، جن میں جنسی خواہشات بھی شامل ہیں۔

لیکن جدید سائنس خوابوں کو صرف دبی ہوئی خواہشات کا نتیجہ نہیں سمجھتی۔

تحقیق کے مطابق خوابوں کا تعلق یادداشت، جذبات، دماغی سرگرمی اور روزمرہ کے تجربات سے بھی ہو سکتا ہے۔

اس لیے ہر خواب کو کسی چھپی ہوئی خواہش، خاص طور پر جنسی خواہش، کا پیغام سمجھنا سائنسی طور پر درست نہیں۔

فرائیڈ کے کئی نظریات آج متنازع یا غلط سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ انہوں نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ انسان کے تمام ذہنی عمل شعوری نہیں ہوتے۔

انہوں نے بچپن کے تجربات، ماضی کے صدمات اور انسان کے لاشعوری ذہنی عمل کو بھی اہم موضوع بنایا۔

اسی طرح گفتگو کے ذریعے نفسیاتی علاج کے تصور نے بعد میں نفسیاتی علاج کے کئی جدید طریقوں کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اصل بات یہ ہے کہ فرائیڈ کی ہر بات کو سائنسی حقیقت سمجھنا بھی غلط ہے اور ان کے پورے کام کو فراڈ کہہ کر ختم کر دینا بھی۔

فرائیڈ کی اصل کہانی شاید یہی ہے: انہوں نے انسان کے ذہن کے بارے میں بڑے سوال ضرور اٹھائے، لیکن ان سوالوں کے تمام جواب درست نہیں دیے۔ جدید سائنس نے ان کے نظریات میں سے کچھ خیالات کو آگے بڑھایا، کچھ کو تبدیل کیا اور کچھ کو تقریباً مسترد کر دیا۔وہ اپنے زمانے کے بااثر مفکر تو کہے جا سکتے ہیں لیکن ان کے نظریات حرف آخر نہیں کہ ان کی ہر بات کو آنکھیں بند کر کے تسلیم کر لیا جائے، بلکہ وہ اپنے دور کے ایک ایسے نیورولوجسٹ تھے جو خود شدید جنسی تعصبات کا شکار تھے۔ آج کی جدید نیوروسائنس نے فرائیڈ کی نفسیاتی الجھنوں پر مبنی ریت کی عمارتوں کو گرا کر صرف سچے اور سائنسی حقائق کو باقی رکھا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button