چار نکاتی امن فارمولا: مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر چین کا تُرپ کا پتہ!

نہال معظم
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی دہائیوں پرانی سکیورٹی کی ہٹی کے سامنے چین نے اپنی نئی دکان کھول دی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ واشنگٹن کے کاؤنٹر پر بندوقیں، میزائل اور فوجی اتحاد رکھے تھے، جبکہ بیجنگ چار چیزیں لے کر آیا ہے: علاقائی خودمختاری، جامع سکیورٹی، معاشی ترقی اور کثیرالجہتی تعاون۔
قاہرہ میں چینی صدر شی جن پنگ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے سامنے مشرقِ وسطیٰ کے لیے یہی چار نکاتی سکیورٹی فریم ورک رکھا ہے۔ بظاہر چار سفارتی نکات ہیں، مگر ذرا غور کیجیے تو یہ چاروں مل کر مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے قائم ایک پورے سکیورٹی ماڈل کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا نکتہ کہتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کا فیصلہ خود کریں اور بیرونی مداخلت سے نکلیں۔ دوسرا کہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک جامع فریم میں حل کرنا ہوگا، جس میں فلسطین بنیادی مسئلہ ہے۔ تیسرا نکتہ سکیورٹی کی بنیاد معیشت، ترقی اور باہمی مفادات کو بناتا ہے۔ اور چوتھا اقوام متحدہ، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی تعاون کی طرف واپسی کی بات کرتا ہے۔
لیکن یہاں اصل کہانی ایک اور ہے۔ چین نے یہ فارمولا پہلی بار ایجاد نہیں کیا۔ بیجنگ برسوں سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی کی بات کرتا آرہا ہے۔ اس لیے قاہرہ میں پیش کیا گیا چار نکاتی فریم ورک کسی اچانک تیار ہونے والے نسخے کے بجائے چین کے پرانے سکیورٹی وژن کی تازہ سیاسی پیشکش ہے۔ فرق یہ ہے کہ آج چین اسے ایسے وقت میں سامنے لا رہا ہے جب خطہ شدید عدم استحکام، جنگ، بحری راستوں کے خطرات اور بڑی طاقتوں کی کشمکش سے گزر رہا ہے۔ یعنی بیجنگ نے پرانی شراب نئی بوتل میں نہیں، بلکہ پرانے فارمولے کو نئے حالات کے لیے زیادہ زور دار انداز میں میز پر رکھا ہے۔
یہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ پورا زاویۂ نگاہ بدلنے کی کوشش ہے۔ مشرقِ وسطیٰ بیرونی طاقتوں کے بنائے ہوئے سکیورٹی فارمولے بہت دیکھ چکا ہے۔ کبھی فوجی اتحاد، کبھی اسلحے کی دوڑ، کبھی جنگ کے بعد جنگ بندی اور کبھی ایک بحران ختم ہونے سے پہلے دوسرے بحران کی تیاری۔ امن کے نام پر اتنی جنگیں ہوئیں کہ کئی ملکوں میں امن اب ایک سیاسی نعرے سے زیادہ ایک نسل کی گمشدہ یاد بن چکا ہے۔
چین اسی تھکے ہوئے خطے کے سامنے آ کر کہہ رہا ہے کہ شاید مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سکیورٹی ہمیشہ دوسروں نے طے کی۔ چین پچھلے چند برسوں میں صرف باتیں نہیں کر رہا؛ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنا معاشی اور سفارتی وزن بھی بڑھا رہا ہے۔ 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں بیجنگ نے اہم کردار ادا کیا۔ دنیا نے دیکھا کہ چین صرف بندرگاہیں، ریلوے لائنیں اور صنعتی منصوبے بنانے والا ملک نہیں رہا؛ وہ ضرورت پڑنے پر سیاسی حریفوں کو مذاکرات کی میز تک لانے کی کوشش بھی کرسکتا ہے۔
اب قاہرہ میں اسی سوچ کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ لیکن پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے نیا سکیورٹی نظام بنانا سعودی عرب اور ایران کو ایک میز پر بٹھانے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ کیونکہ اس خطے کا سب سے بڑا زخم ابھی بھی وہیں ہے جہاں دہائیوں سے خون بہہ رہا ہے: فلسطین۔
چین کے نزدیک فلسطینی مسئلہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی بنیادی کڑی ہے۔ غزہ کی تباہی نے ایک مرتبہ پھر دکھایا ہے کہ فلسطینی مسئلہ حل کیے بغیر خطے میں پائیدار سکیورٹی کا خواب کمزور بنیادوں پر کھڑا ہوگا۔ چین کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی کو صرف فوجی طاقت سے نہ ناپا جائے؛ معیشت، ترقی، تجارت اور باہمی مفادات بھی سکیورٹی کا حصہ ہیں۔ روزگار اور سرمایہ کاری بڑھے، ممالک ایک دوسرے کے معاشی مفادات میں بندھیں تو جنگ کی قیمت بھی بڑھتی ہے اور امن کی قدر بھی۔ شی جن پنگ نے اس بار بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ میں بھی علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی ہے، جو موجودہ علاقائی کشیدگی میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
تو پھر چین بار بار یہی بات کیوں دہرا رہا ہے؟ شاید اس لیے کہ بیجنگ کا اصل ہدف صرف کسی ایک جنگ کو رکوانا نہیں بلکہ سکیورٹی کی تعریف ہی بدلنا ہے۔ چین براہِ راست یہ نہیں کہہ رہا کہ امریکی فوجیں نکل جائیں اور چین ان کی جگہ لے لے۔ اس کے بجائے وہ کہہ رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنی سکیورٹی خود طے کریں، بیرونی مداخلت کم ہو، تجارت اور ترقی بڑھے اور تنازعات مذاکرات سے حل ہوں۔ اگر خطے نے یہ سوچ قبول کرنا شروع کردی تو چین کو کسی امریکی اڈے پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی؛ سکیورٹی کا پورا تصور ہی آہستہ آہستہ تبدیل ہوسکتا ہے۔
یہی چین کی اصل چال ہے۔ وہ امریکہ سے براہِ راست فوجی مقابلہ کرنے کے بجائے کھیل کے اصول بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر، سفارت کاری اور اب سکیورٹی ،بیجنگ ان سب کو ایک ہی بڑے جغرافیائی منصوبے میں جوڑ رہا ہے۔ قاہرہ کی ملاقات میں چین اور مصر نے بھی معیشت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ چین کے لیے سکیورٹی اور معاشی شراکت الگ الگ خانے نہیں۔
لیکن مشرقِ وسطیٰ خوبصورت خیالات سے زیادہ پیچیدہ حقیقتوں کا خطہ ہے۔ کیا اسرائیل، ایران، سعودی عرب اور فلسطینی قیادت ایک ہی فارمولے پر متفق ہوسکتی ہے؟ کیا برسوں پرانے اختلافات صرف معاشی تعاون سے ختم ہوجائیں گے؟ کیا بیرونی طاقتوں کی مداخلت ختم کرنا اتنا آسان ہے جتنا ایک سفارتی اعلامیے میں لکھ دینا؟ یقیناً نہیں۔ یہی چین کے منصوبے کا اصل امتحان ہے۔
چین کے پاس پیسہ، تجارت، سرمایہ کاری اور بڑھتا ہوا سفارتی اثر ہے، مگر امن صرف سرمایہ کاری سے نہیں آتا۔ امن کے لیے ایسے فریقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا پڑتا ہے جو برسوں سے ایک دوسرے کو حریف سمجھتے آئے ہیں۔ اس لیے چین کے چار نکات کاغذ پر جتنے آسان دکھائی دیتے ہیں، میدان میں اتارنا اتنا ہی مشکل ہوگا۔
اگر بیجنگ اپنی معاشی طاقت کو سفارتی طاقت اور پھر علاقائی سکیورٹی کے اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو کھیل واقعی بدل سکتا ہے۔ پھر چین صرف وہ ملک نہیں رہے گا جو عرب دنیا کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کرتا ہے، بلکہ وہ طاقت بھی بن جائے گا جو یہ طے کرنے میں شریک ہوگی کہ مشرقِ وسطیٰ کو محفوظ کیسے رکھا جائے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں واشنگٹن کے لیے اصل سوال کھڑا ہوتا ہے: اگر مشرقِ وسطیٰ نے چینی سکیورٹی فارمولے کو سنجیدگی سے سننا شروع کردیا تو سکیورٹی کی تعریف بدل سکتی ہے، اور جس دن سکیورٹی کی تعریف بدل گئی، طاقت کا پرانا نقشہ بھی زیادہ دیر پرانا نہیں رہے گا۔



