پٹرولیم لیوی پر19روزہ دھرنے کا دباؤ رنگ لے آیا!حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات کا بڑا بریک تھرو

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) پیٹرولیم لیوی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں جاری جماعت اسلامی کے دھرنوں کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ 19 روز سے جاری احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومتی وفد نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی، جس کے بعد دونوں جانب سے مذاکراتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔

حکومتی وفد نے منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ نے مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی قوتیں عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہیں۔ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور جماعت اسلامی سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسی قابلِ عمل تجاویز پیش کرے جن کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ عوام پر کم کیا جاسکے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور موجودہ حالات میں ایسی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے جس سے دشمن فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی اور مذہبی قوتوں کو مل کر ملک میں داخلی امن برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس موقع پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لیے بعض تجاویز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جماعت اسلامی کی قابلِ عمل تجاویز پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک بھر میں 19 روز سے 30 مختلف مقامات پر دھرنے جاری ہیں اور جماعت اسلامی کو احتجاج کا کوئی شوق نہیں، بلکہ عوام کو درپیش سنگین مسائل نے انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 6 سال کے دوران ملک میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایک عام موٹرسائیکل سوار کو ایک لیٹر پیٹرول پر بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام ایسی بجلی کے بھی بل ادا کرنے پر مجبور ہیں جو پیدا ہی نہیں کی جاتی۔

امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیوی کو معطل کرنے کے بجائے اس میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور جب سے یہ لیوی نافذ ہوئی ہے، اس مد میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد جمع کیے جاچکے ہیں۔

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنوں اور حکومتی وفد کی منصورہ آمد کے بعد سیاسی حلقوں میں نظریں اب مذاکرات پر مرکوز ہوگئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات عوام کو فوری ریلیف دلانے میں کامیاب ہوں گے یا 19 روز سے جاری احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا؟

مزید خبریں

Back to top button