پاکستان کی نئی سفارتی چال!امریکا،ایران مذاکرات کیلئےمزید60دن کی تجویز،آبنائے ہرمزکھولنےکاپلان زیرِغور

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: جانو ڈاٹ پی کے) امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور طویل سفارتی تعطل ختم کرانے کیلئے پاکستان نے ایک بار پھر بڑا سفارتی قدم اٹھا دیا ہے۔ پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کیلئے مزید 60 روزہ ٹائم لائن تجویز کردی ہے۔ تاہم اس تجویز کی تاحال امریکا، ایران یا پاکستان کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
پاکستان کی نئی کوشش کا مرکز صرف جنگ بندی نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور واشنگٹن و تہران کو دوبارہ براہِ راست مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ 60 روزہ مدت کے آغاز کے ساتھ ہی مذاکرات بحال کرنے اور پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز اور پابندیوں سے متعلق ایک ابتدائی فریم ورک تیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پہلی60روزہ ڈیڈ لائن ختم، پاکستان نے نیا راستہ نکال لیا
اسلام آباد کی نئی سفارتی کوشش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان پہلے طے شدہ 60 روزہ مدت 16 اگست کو ختم ہوگئی۔ یہ مدت 17 جون کو طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی عمل کے تحت شروع ہوئی تھی، تاہم دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان نئی براہِ راست جنگی کارروائی شروع نہ کرنے کی ایک غیر اعلانیہ مفاہمت برقرار رہی۔اب اسلام آباد ایک نئے 60 روزہ مرحلے کے ذریعے اس تعطل کو توڑنے کی کوشش کررہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران مشن،بڑی پیشرفت کادعویٰ
یہ پیشرفت فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔پاکستانی ذرائع کے مطابق انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات بحال کرنے،آبنائے ہرمز کھولنے اور نئی تجاویز پر بات چیت کی۔
ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان سید مہدی طباطبائی نے بھی دورے کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران اہم سفارتی پیشرفت ہوئی ہے جس کے نتائج جلد سامنے آسکتے ہیں۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے کیلئے رابطہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکا کی بڑی پیشکش، پابندیوں میں نرمی کے بدلے ہرمز کھولنے کا مطالبہ؟
ذرائع کے مطابق امریکا نے ایران کے سامنے ایسی تجویز رکھی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے تہران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا ایک بڑا حصہ اٹھایا جاسکتا ہے۔واشنگٹن کی خواہش ہے کہ براہِ راست مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل بیک وقت شروع ہو۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ ہرمز کو معمول کے مطابق کھولنے سے پہلے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، بالخصوص جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں، کو روکا جائے۔
ذرائع کے مطابق تہران نے نئی تجاویز پر مثبت اشارہ دیا ہے، لیکن ابھی تک آبنائے ہرمز، پابندیوں اور جنگ بندی جیسے بنیادی معاملات پر کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔
اسلام آبادیادوحہ؟اگلی مذاکراتی میز کہاں لگے گی؟
پاکستان کی جانب سے ایرانی مذاکرات کاروں کو آئندہ بات چیت کیلئے اسلام آباد آنے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ تاہم قطر کا دارالحکومت دوحہ بھی ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر زیرِ غور ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ کاری میں سرگرم ہے اور دونوں فریقوں سے سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان دونوں فریقوں کے ساتھ بیک وقت رابطہ رکھنے والا ایک اہم علاقائی ثالث بن چکا ہے۔
آبنائے ہرمز کھلی تو دنیا کو کیا فائدہ ہوگا؟
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کی انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ اس کے ذریعے خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل، گیس اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔اسی لیے اس آبی گزرگاہ کی بندش نے صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو نہیں بڑھایا بلکہ عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ اور تجارت پر بھی شدید دباؤ ڈالا ہے۔حالیہ دنوں میں ایران اور عمان بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو مرحلہ وار منظم کرنے اور عارضی بحری راستے پر بات چیت کر رہے ہیں، جبکہ حتمی انتظام ابھی زیرِ مذاکرات ہے۔
ایران اور عمان کی پیشرفت نے بھی امید جگادی
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق حالیہ بات چیت میں عارضی بحری راہداری اور مائن کلیئرنس جیسے اقدامات زیرِ بحث آئے ہیں۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک ممکنہ علامت قرار دیا جارہا ہے، تاہم ایران اب بھی امریکا کی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو ہرمز کی مکمل بحالی سے جوڑ رہا ہے۔
اصل امتحان اب شروع ہوگا
پاکستان کی نئی 60 روزہ تجویز اگر واشنگٹن اور تہران کی رضامندی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ کئی ماہ سے جاری جنگ اور سفارتی تعطل کو ختم کرنے کیلئے ایک نیا راستہ کھول سکتی ہے۔لیکن اصل رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں: امریکی پابندیاں، آبنائے ہرمز کی آزادیٔ آمدورفت، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، سکیورٹی ضمانتیں اور دونوں ممالک کے درمیان شدید بداعتمادی۔
یوں اسلام آباد کی نئی 60 روزہ تجویز صرف ایک سفارتی مدت نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کھولنے، عالمی توانائی بحران کم کرنے اور امریکا و ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی ایک بڑی کوشش بن چکی ہے۔ اگر دونوں فریق اس موقع کو قبول کرلیتے ہیں تو پاکستان کی ثالثی خطے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت کا دروازہ کھول سکتی ہے۔


