شاہِ جاپان کے قبولِ اسلام اورہافو بچوں سے لے کر ٹرمپ کے "اسلامی جمہوریہ جاپان” کی ان دیکھی مسلم تاریخ

تحریر:نہال معظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان جب بھی پھسلتی ہے، دنیا کو ہنسنے کا موقع تو ملتا ہی ہے لیکن بعض اوقات تاریخ کے وہ بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں جن پر دہائیوں سے زنگ چڑھا ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب ٹرمپ نے انقرہ میں نیٹو اجلاس کے دوران ایران کی جگہ غلطی سے "اسلامی جمہوریہ جاپان” کہہ دیا، تو سوشل میڈیا پر تو قہقہے گونجے ہی، لیکن اس بظاہر مضحکہ خیز غلطی کے پیچھے ایک ایسی تاریخی سچائی چھپی ہے جس سے خود آج کا جاپان بھی آنکھیں چرارہا ہے۔ دنیا جاپان کو ایک شدید قوم پرست اور مسلم دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے ملک کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن اس کے برعکس جاپان میں خاموشی سے ایک بڑا آبادیاتی انقلاب جنم لے رہا ہے۔ پچھلے محض پانچ سالوں میں جاپان میں مسلمانوں کی آبادی دوگنی ہو کر چار لاکھ بیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ دوسری طرف جاپان میں مخلوط النسل بچوں کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جنہیں وہاں کی مقامی زبان میں "ہافو” یعنی آدھے جاپانی کہا جاتا ہے۔ جاپانی قومیت اور نسلی پاکیزگی کا دعویٰ کرنے والے معاشرے میں اب پیدا ہونے والے بچوں کی ایک قابل ذکر تعداد غیر جاپانی والدین کے گھر آنکھ کھول رہی ہے۔
گرتی ہوئی شرحِ پیدائش اور تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جاپان میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک مساجد کی تعمیر اور غیر ملکیوں کی آمد پر شدید اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو اسلام جاپان میں بالکل نیا اور اجنبی نظر آتا ہے، وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایشیا کے مسلمان سچ مچ جاپان کے ایک اسلامی سلطنت بننے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ یہ قصہ بیسویں صدی کے آغاز کا ہے جب جاپان نے 1905ء میں روس کو شکست دے کر پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ نوآبادیاتی نظام سے پسے ہوئے مسلم مفکرین کے لیے جاپان امید کی ایک روشن کرن بن کر ابھرا، اور مصر سے لے کر ہندوستان اور انڈونیشیا تک یہ افواہیں پھیل گئیں کہ جاپان کے شہنشاہ بہت جلد اسلام قبول کرنے والے ہیں اور ان کے ساتھ ہی پوری جاپانی قوم بھی مسلمان ہو جائے گی۔
جاپان کی عسکری قیادت نے اس عوامی جذبے کی طاقت کو بھانپ لیا اور برطانوی و روسی اثر و رسوخ کو توڑنے کے لیے مسلمانوں کو اپنا سٹریٹجک اتحادی بنایا۔ جاپان نے نہ صرف اسلامی علوم کی تحقیق کے لیے ادارے قائم کیے بلکہ روس سے بھاگ کر آنے والے تاتاری مسلمانوں کو پناہ دی اور کوبے اور ٹوکیو میں بڑی بڑی مساجد کی تعمیر میں بھرپور مالی و سیاسی مدد فراہم کی۔ ‘بلیک ڈریگن سوسائٹی’ جیسی جاپانی خفیہ تنظیموں نے مسلمانوں کے ساتھ گہرے روابط استوار کیے اور عمر یاماوکا جیسے جاپانی شہریوں نے سٹریٹجک مفادات کے لیے اسلام قبول کر کے مسلم دنیا میں جاپانی حکمتِ عملی کا جال بچھایا۔ دوسری جنگِ عظیم کی شکست کے بعد تاریخ کا یہ باب اگرچہ خاک میں مل گیا اور جاپان نے خود کو ایک الگ تھلگ دنیا میں محدود کر لیا، لیکن آج جب "ہافو” بچوں کی نئی نسل اور بڑھتی ہوئی مسلم آبادی جاپان کا نیا چہرہ تراش رہی ہے، تو ٹرمپ کا وہ جملہ ماضی کے اس بھولے بسرے رشتے کی ایک تروتازہ امید کے کر سامنے آتا ہے کہ کیا پتہ ٹرمپ کی کالی زبان سے نکلے الفاظ کل سچائی کا روپ دھار لیں۔



