پمز سانحہ،حافظ نعیم الرحمان حکومت پر برس پڑے، گڈ گورننس کے دعوے دفن ہونے کا دعویٰ

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے دلخراش واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھا دیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں پیش آنے والے نہایت دلخراش واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں کے والدین پر قیامت گزر گئی اور ان کے دکھ کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ والدین کا یہ سوال بجا ہے کہ اسپتال انتظامیہ اور عملہ کہاں تھا؟ ان کے مطابق ایسے حساس اور اہم اسپتال میں حفاظتی انتظامات اور ایمرجنسی نظام کی صورتحال پر سنجیدگی سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ وفاقی دارالحکومت میں واقع ایک اسپتال کو نہیں سنبھال سکتے، وہ پورا ملک کیا سنبھالیں گے؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی ایم حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے، جبکہ وفاقی حکومت، وزراء اور ماتحت بیوروکریسی کی نااہلی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہی صورتحال صوبائی حکومتوں کی بھی ہے۔ ان کے بقول گزشتہ 40 سے 50 سال سے مختلف جماعتیں حکومت کرتی آرہی ہیں، لیکن معیشت، امن و امان، تعلیم اور صحت سمیت اہم شعبوں میں عوام کو خاطر خواہ نتائج نہیں مل سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے گڈ گورننس کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے رہے، لیکن پمز جیسے سانحات نے ان دعوؤں کی حقیقت پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں کی ہلاکت ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔



