بھارت: چیف الیکشن کمشنر کیخلاف احتجاج کرنیوالوں پر پولیس کا دھاوا،طلبہ رہنما سمیت متعدد گرفتار

نیودہلی(جانوڈاٹ پی کے)بھارت میں جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔
دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے مظاہرین کو چن چن کر حراست میں لیا اور طلبہ رہنما نیہا بورا اور یوگیندر یادو سمیت متعدد افراد پولیس کارروائی کی زد میں آئے۔
نیہا بورا نے کہا کہ مودی حکومت نے گنیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر بنایا جس نے ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے حکمران جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچایا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارت کی ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے وارننگ دی تھی کہ اگر بھارت کے چیف الیکشن کمشنر نے 48 گھنٹوں کے اندر استعفیٰ نہ دیا تو وہ ملک گیر احتجاج شروع کر دیں گے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ الٹی میٹم ایک اخباری رپورٹ کے بعد سامنے آیا تھا جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں پر ان کے ماتحت افسران نے اعتراضات اٹھائے تھے۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا ہے تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو الیکشن میں فائدہ پہنچایا جاسکے۔
ایک بھارتی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو الیکشن کمشنرز نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے سامنے ووٹر لسٹوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے عمل کے حوالے سے سوالات اٹھائے یا اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اخبار کے مطابق اعتراضات نئے ووٹرز کے اندراج اور ووٹرز کے نام فہرست سے نکالنے اور دوبارہ شامل کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تھے۔
دونوں کمشنرز نے نئے ووٹرز کے لیے آن لائن فارم 6 میں کی گئی تبدیلی پر بھی اعتراض کیا تھا، فارم میں پوچھا گیا تھا کہ آیا نئے ووٹر، ان کے والدین یا دادا دادی کا نام پرانی ووٹر فہرست میں موجود تھا یا نہیں۔



