مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں،ہرمزاور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں،حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے،شہباز شریف

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کو تنازعات کے حل کا راستہ قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی مرتبہ خطاب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے کی نازک صورتحال کے پیش نظر فوری اقدامات کا فیصلہ کیا اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آچکا ہے، ایسے حالات میں حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی کو ریڈ لائن ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کردار ادا کیا اور تہران کو مذاکرات کی طرف لانا ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی کوششوں سے بھی سفارت کاری کی راہ ہموار ہوئی، جبکہ جنگ کے باعث سمندری راستے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں اور تنازعات کے باعث اہم عالمی سمندری راستوں کو بند نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی جانب سے حالیہ سفارتی کوششوں میں ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے بھی شامل رہے ہیں۔


