16منٹ کی خاموشی؟پمزآتشزدگی نے نظام پرسوال اٹھادیے
پمز سانحہ: 14 نومولود کی موت، 16 منٹ کی تاخیر اور ایس او پیز پر سنگین سوالات

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: جانو ڈاٹ پی کے) پمز اسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی اموات نے وفاقی دارالحکومت کے نظامِ صحت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سانحے کے بعد آگ لگنے کے وقت، ریسکیو اداروں کو اطلاع دینے میں مبینہ تاخیر، فائر سیفٹی انتظامات اور ایمرجنسی پروٹوکول پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آگ لگی کب؟ وفاقی وزیر صحت کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں شام 6 بج کر 38 منٹ پر ایئرکنڈیشنر کے قریب چنگاری دکھائی دیتی ہے اور 6 بج کر 39 منٹ پر لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب پمز انتظامیہ کے مطابق آگ 6 بج کر 45 منٹ پر لگی۔
اگر سی سی ٹی وی فوٹیج میں 6:38 پر چنگاری اور 6:39 پر لوگوں کی نقل و حرکت نظر آرہی ہے تو پھر آگ لگنے کا سرکاری وقت 6:45 منٹ کیوں بتایا گیا؟ یہ تضاد تحقیقات کیلئے ایک اہم سوال بن گیا ہے۔
سی ڈی اے کو اطلاع دینے میں 16 منٹ کی تاخیر؟
سانحے سے متعلق ایک اور اہم سوال سی ڈی اے کو اطلاع دینے کے وقت پر اٹھ رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق سی ڈی اے کو آگ کی اطلاع 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی۔
اگر آگ کے آثار 6:38 منٹ پر سامنے آگئے تھے تو متعلقہ ریسکیو ادارے کو اطلاع دینے میں اتنا وقت کیوں لگا؟ کیا ابتدائی چند منٹوں میں صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کی جاتی رہی یا کسی سطح پر فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوئی؟ اس سوال کا جواب تحقیقات کے ذریعے ہی سامنے آسکے گا۔
اے سی کمپریسر پہلے سے خراب تھا؟
ابتدائی طور پر آگ کی ممکنہ وجہ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر سے جوڑی جارہی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد ہوگا۔
اگر کمپریسر میں پہلے سے خرابی یا غیر معمولی ہیٹنگ کی شکایت موجود تھی تو اسے بروقت ٹھیک یا تبدیل کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا نرسری جیسے انتہائی حساس وارڈ کے برقی اور طبی آلات کی باقاعدگی سے جانچ کی جارہی تھی؟
یہ بھی معلوم کرنا ضروری ہے کہ واقعے سے قبل کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی ہوئی تھی یا نہیں اور اگر ہوئی تھی تو اس پر فوری کارروائی کیوں نہ کی گئی۔
ایمرجنسی پلان کہاں گیا؟
نومولود بچوں کی نرسری میں آگ لگنے کے بعد سب سے اہم سوال ایمرجنسی انخلا کے منصوبے پر اٹھ رہا ہے۔
حساس وارڈز میں فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ، آگ بجھانے کے آلات اور عملے کی ذمہ داریوں سے متعلق واضح ایس او پیز موجود ہونا ضروری ہیں۔ اب تحقیقات میں یہ سوال بھی شامل ہونا چاہیے کہ آگ لگنے کی صورت میں نوزائیدہ بچوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا منصوبہ کیا تھا اور اس پر کتنا عمل ہوا؟
حادثے کے وقت کتنے ڈاکٹر اور نرسیں موجود تھیں؟
سانحے کے وقت نرسری یا این آئی سی یو میں کتنے ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، ٹیکنیشنز اور دیگر ملازمین ڈیوٹی پر موجود تھے؟ ان کی ذمہ داریاں کیا تھیں؟ کس نے فائر الارم پر ردعمل دیا؟ بچوں کو نکالنے کا فیصلہ کس نے کیا؟ اور کیا عملے کو فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کی تربیت دی گئی تھی؟
یہ تمام سوالات صرف انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ 14 معصوم جانوں کے ضیاع کے اسباب سمجھنے کیلئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ذمہ داری صرف ایک ٹیکنیشن پر ڈال دی جائے گی؟
واقعے کے بعد یہ خدشہ بھی سامنے آرہا ہے کہ کہیں تحقیقات کا دائرہ صرف کسی نچلے درجے کے ملازم یا ٹیکنیشن تک محدود نہ کردیا جائے۔
اصل تحقیقات میں بائیومیڈیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، وارڈ انچارج، فائر سیفٹی ذمہ داران، انتظامیہ اور متعلقہ افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ آلات کی مینٹیننس کیلئے مختص وسائل اور حفاظتی نظام کی دیکھ بھال کے حوالے سے مقررہ طریقہ کار پر عمل ہوا یا نہیں۔
اب صرف سوگ نہیں، جواب بھی درکار ہیں
پمز جیسے وفاقی دارالحکومت کے بڑے سرکاری اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا سانحہ محض ایک حادثہ قرار دے کر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر تحقیقات میں کسی سطح پر غفلت، تاخیر یا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کا تعین اور کارروائی ضروری ہوگی۔
اب اصل امتحان شفاف تحقیقات کا ہے: آگ کب لگی؟ اطلاع دینے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ فائر سیفٹی نظام نے کام کیا یا نہیں؟ ایمرجنسی پلان کہاں ناکام ہوا؟ ڈیوٹی پر کتنا عملہ موجود تھا؟ اور اگر کسی خرابی کا پہلے سے علم تھا تو اسے دور کیوں نہیں کیا گیا؟
ان سوالات کے واضح جوابات ہی یہ طے کرسکیں گے کہ پمز کا سانحہ محض ایک بدقسمت حادثہ تھا یا اس کے پیچھے ایسی انتظامی کوتاہیاں بھی تھیں جنہیں بروقت دور کیا جاسکتا تھا۔



