آکسیجن پوائنٹس نے آگ کو بنادیا آگ کاطوفان؟پمزسانحے نےاسپتالوں کے حفاظتی نظام پرسوال اٹھادیے،ابتدائی رپورٹ میں اہم انکشاف

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: جانو ڈاٹ پی کے) پمز اسپتال اسلام آباد کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی نے پورے ملک کو سوگوار کردیا، جہاں 14 نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے کی مکمل تحقیقات کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ واقعے کی ابتدائی رپورٹ نے آگ کے انتہائی تیزی سے پھیلنے اور آکسیجن پوائنٹس کے کردار سمیت کئی اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق نرسری میں صبح 6 بج کر 38 منٹ پر چنگاری نکلی، جبکہ صرف ایک منٹ بعد 6 بج کر 39 منٹ پر زوردار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں چھت کا ایک حصہ بھی گر گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نرسری میں موجود آکسیجن پوائنٹس کے باعث آگ نے چند ہی سیکنڈز میں انتہائی خطرناک شکل اختیار کرلی۔

نرسری میں 16 نومولود موجود تھے، صرف ایک بچ سکا

پمز انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عملے کیلئے دوبارہ اندر داخل ہونا انتہائی مشکل ہوگیا۔ ایک لیڈی ڈاکٹر نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکال لیا، تاہم 14 بچے جاں بحق ہوگئے۔

انتظامیہ کے مطابق ملحقہ کمرے سے 4 بچوں اور 3 ماؤں کو بھی بحفاظت نکالا گیا، جبکہ عمارت کے گائنی وارڈ میں موجود 73 مریضوں کو بھی چند ہی منٹوں میں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

صرف 4 اہلکار ڈیوٹی پر تھے؟

ابتدائی رپورٹ میں ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سانحے کے وقت نرسری میں 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسیں ڈیوٹی پر موجود تھیں۔ آگ لگتے ہی عملے نے سیکیورٹی اہلکاروں کو طلب کیا اور نومولود بچوں کو بچانے کیلئے دو مرتبہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اب تحقیقات میں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ اتنے حساس وارڈ میں اس وقت موجود عملے کی تعداد ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کافی تھی یا نہیں۔

35 فائر ایکسٹنگوشرز اور ایمرجنسی ایگزٹ کا دعویٰ

پمز انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عمارت میں نصب 35 فائر ایکسٹنگوشرز آگ پر قابو پانے کیلئے استعمال کیے گئے جبکہ تمام ایمرجنسی ایگزٹس کھلے اور فعال تھے۔

دوسری جانب آگ پر قابو پانے کیلئے فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

تاہم اصل سوال یہی ہے کہ اگر فائر سیفٹی کا نظام فعال تھا تو نرسری میں موجود نومولود بچوں کو بڑے پیمانے پر محفوظ کیوں نہ نکالا جاسکا؟ اس کا جواب تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے ہی سامنے آئے گا۔

آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا اے سی کمپریسر پھٹا؟

سانحے کے بعد آگ لگنے کی وجہ کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی معلومات میں ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بعد میں شارٹ سرکٹ کا بھی ذکر کیا گیا۔

اب تحقیقاتی کمیٹی کیلئے یہ تعین کرنا انتہائی اہم ہوگا کہ آگ اصل میں کس وجہ سے لگی اور آیا برقی نظام یا ایئرکنڈیشنر میں پہلے سے کوئی خرابی موجود تھی یا نہیں۔

وزیراعظم نے پانچ رکنی کمیٹی بنا دی

وزیراعظم نے واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی سابق سیکریٹری شاہد خان کی سربراہی میں کام کرے گی۔

کمیٹی آگ لگنے کے وقت اور مکمل ٹائم لائن کا تعین کرے گی، اسپتال عملے، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں کے ہنگامی ردعمل کا جائزہ لے گی۔

اس کے علاوہ نومولود بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ایس او پیز، فائر سیفٹی نظام اور حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد بھی جانچا جائے گا۔

غفلت ہوئی تو ذمہ دار کون؟

تحقیقاتی کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ کسی افسر یا اہلکار کی غفلت یا ذمہ داری کا تعین کرے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے سفارشات مرتب کرے۔

وزیراعظم کو ابتدائی رپورٹ 48 گھنٹوں میں پیش کی جائے گی، جبکہ حتمی رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین بھی کیا جائے گا۔

پمز انتظامیہ نے جاں بحق نومولود بچوں کے اہل خانہ سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی مختلف فورمز پر تحقیقات جاری ہیں اور آگ لگنے اور اس کے انتہائی تیزی سے پھیلنے کی اصل وجوہات کا حتمی تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

14 معصوم جانوں کا ضیاع کئی سنگین سوالات چھوڑ گیا ہے: کیا فائر سیفٹی کا نظام واقعی مکمل طور پر فعال تھا؟ آکسیجن پوائنٹس نے آگ کو کس حد تک شدت دی؟ آگ لگنے کے بعد نومولود بچوں کے انخلا کا منصوبہ کیوں مؤثر ثابت نہ ہوسکا؟ اور سب سے بڑھ کر—اس سانحے میں اگر کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب اب پوری قوم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں تلاش کرے گی۔

مزید خبریں

Back to top button