امریکی اقتصادی دباؤ کا جواب،ایران اور عمان میں حد بندی پراتفاق

تہران (جانو ڈاٹ پی کے) آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی حد بندی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں دونوں ملکوں کے حصے پر اتفاق ہوگیا ہے، تاہم امریکی مداخلت نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ امریکا ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں رکاوٹیں پیدا کررہا ہے، جس کے باعث مذاکرات میں تاخیر ہوئی۔
ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق دوٹوک مؤقف
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو معمول کے مطابق کھولنے کا معاملہ ایران کی شرائط سے مشروط ہوگا۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کی شرائط تسلیم نہیں کرتا تو آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کیلئے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے حوالے سے ایران کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کردی ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان آمدنی کی تقسیم؟
ایرانی ترجمان کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے ہونے والی آمدنی میں ایران اور عمان دونوں کے حصے کے حوالے سے بھی اتفاق رائے ہوا ہے۔
تاہم اس مجوزہ انتظام کی تفصیلات، اس کی قانونی حیثیت اور عملی نفاذ کے طریقہ کار کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔ اس حوالے سے حتمی معاہدے کی تفصیلات ہی واضح کریں گی کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کس نوعیت کی ہے۔
ایرانی صدر کا اقتصادی دباؤ کو جواب
دوسری جانب ایرانی صدر نے امریکا کی جانب سے اقتصادی دباؤ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح فوجی حملوں کے ذریعے ایران کو دبانے کی کوششیں ناکام ہوئیں، اسی طرح اقتصادی ناکہ بندی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔
ایرانی صدر کے مطابق امریکا کی جانب سے اقتصادی دباؤ سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات، باہمی تعاون اور سفارتی ذرائع سے نکالنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
باقر قالیباف کا طاقت محفوظ رکھنے پر زور
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی موجودہ صورتحال میں محتاط حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کے تحفظ کیلئے ایران کو اپنی طاقت محفوظ رکھنا ہوگی۔
ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف مذاکرات اور سفارتی حل کی بات کررہا ہے، جبکہ دوسری جانب اپنی دفاعی اور تزویراتی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کو بھی اہم سمجھتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر عالمی نظریں
ایران اور عمان کے مذاکرات اور آبنائے ہرمز سے متعلق سامنے آنے والے دعووں نے خطے کی صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کی آمدورفت کسی طویل عرصے تک متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی اور تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے طے پانے والی مفاہمت باقاعدہ معاہدے کی شکل اختیار کرتی ہے، اور کیا امریکی دباؤ کے باوجود تہران اپنی شرائط منوانے میں کامیاب ہوگا؟ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔



