بدین:20 سال بعد تعمیر ہونیوالی سڑک 8 روز بعد ہی اکھاڑ دی گئی،شہریوں اور تاجروں کا احتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ /پی کے)بدین شہر کے مرکزی تجارتی مرکز میں 20 سال بعد تعمیر ہونے والی قائداعظم روڈ کو تعمیر شروع ہونے کے صرف آٹھ روز بعد ہی میونسپل کمیٹی کی جانب سے مشین کے ذریعے اکھاڑ دیے جانے پر شہریوں اور تاجروں نے احتجاج کیا ہے
تفصیلات کے مطابق قاضیہ واہ سے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول تک قائداعظم روڈ گزشتہ کئی برس سے مکمل طور پر تباہ حال تھا۔ شہریوں کی طویل جدوجہد کے بعد بدین کے ایم پی اے حاجی تاج محمد ملاح کی کوششوں اور ترقیاتی فنڈ سے سڑک کی تعمیر کا کام آٹھ روز قبل شروع کیا گیا تھا۔ قاضیہ واہ سے گدھا گاڑی چوک تک سڑک کا تقریباً نصف حصہ مکمل ہونے کے بعد میونسپل کمیٹی بدین کی جانب سے مبینہ طور پر مشین کے ذریعے تعمیر شدہ سڑک کو دوبارہ اکھاڑنا شروع کردیا گیا میونسپل کمیٹی کے وائس چیئرمین علی اکبر میمن نے میڈیا کو بتایا کہ سڑک کی تعمیر کا کام روزانہ رات کے اوقات میں کرایا جارہا تھا۔ نصف سڑک مکمل ہونے کے بعد شہریوں نے شکایت کی کہ زیرِ زمین واٹر سپلائی کی لائنیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جس کے باعث پانی سڑک کی سطح پر آرہا ہے۔ ان کے مطابق اسی شکایت پر سڑک کا کچھ حصہ توڑ کر پانی کی ٹوٹی ہوئی لائنوں کی مرمت کی جارہی ہے دوسری جانب موقع پر جمع ہونے والے تاجروں کے رہنماؤں میر اشفاق ٹالپر اور غفور میمن نے الزام عائد کیا کہ زیرِ زمین پانی کی لائنیں گزشتہ تین سال سے ٹوٹی ہوئی ہیں اور پانی مرکزی سڑک پر جمع ہوتا رہا ہے، جسے تاجر اپنی مدد آپ کے تحت نکلواتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑک پر پڑنے والے گڑھے بھی تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت پُر کرائے اور بارہا میونسپل چیئرمین اور منتخب نمائندوں کو شکایات کیں، تاہم کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی تاجر رہنماؤں کے مطابق سڑک کی تعمیر شروع ہونے سے قبل بھی میونسپل کمیٹی اور ٹھیکیدار کو آگاہ کیا گیا تھا کہ پہلے پانی کی ٹوٹی ہوئی لائنیں درست کی جائیں، اس کے بعد سڑک کی تعمیر شروع کی جائے، لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ اب جب سڑک کا تقریباً 50 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے تو پانی کی لائنوں کی خرابی کا معاملہ سامنے لاکر تعمیر شدہ سڑک دوبارہ اکھاڑی جارہی ہے دوسری جانب پیپلز پارٹی بدین کے ایک عہدیدار اور میونسپل کمیٹی کے ایک کونسلر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ میونسپل کمیٹی نے ساڑھے تین سال کے دوران شہر میں کوئی نمایاں ترقیاتی کام نہیں کرایا، جبکہ ایم پی اے کی جانب سے شہر کی سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کے منصوبے شروع کیے گئے تو ان میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ذرائع کے مطابق شہید شاہنواز بھٹو چوک سے شہید بینظیر بھٹو چوک تک سڑک کی تعمیر کا کام بھی شروع کیا گیا تھا، تاہم آدھے سے زائد حصے کی تعمیر کے بعد تجاوزات کے خاتمے اور نالوں کی صفائی کا جواز پیش کرتے ہوئے سڑک کی کھدائی کردی گئی اور نکاسی آب کے نالے بھی توڑ دیے گئے۔ نتیجتاً مذکورہ سڑک کا تعمیراتی کام ایک سال سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار ہے، جبکہ بارش اور گندے پانی کے جمع ہونے سے شہریوں، تاجروں، موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے شہری و سیاسی حلقوں کے مطابق قائداعظم روڈ کی موجودہ صورتحال بھی اسی نوعیت کی رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے بعض ذرائع نے ایم پی اے اور میونسپل چیئرمین کے درمیان اختلافات کو اس صورتحال کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے، تاہم اس حوالے سے متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آسکا پارٹی ذرائع کے مطابق میونسپل کمیٹی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین سمیت منتخب نمائندوں کے درمیان اختیارات، میونسپل کمیٹی کے انتظامی امور اور مبینہ طور پر غیر منتخب افراد کے ذریعے معاملات چلانے کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بھی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے منتخب اراکین پارلیمنٹ اور ضلعی عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی قائم کی تھی، جس نے میونسپل کمیٹی پہنچ کر چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز سے ملاقات کرکے صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اپنی رپورٹ اعلیٰ قیادت کو پیش کی ذرائع کے مطابق گریڈ ایک سے چار تک کی ملازمتوں کی تقسیم کے معاملے پر بھی چیئرمین اور وائس چیئرمین کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، تاہم بعدازاں دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات میں کمی آئی شہریوں اور تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی و انتظامی اختلافات کا خمیازہ شہریوں کو نہ بھگتنا پڑے۔ انہوں نے میونسپل کمیٹی کو ملنے والے ماہانہ بجٹ کے استعمال کی شفاف تحقیقات اور آڈٹ کرانے، قائداعظم روڈ سمیت شہید شاہنواز بھٹو چوک سے شہید بینظیر بھٹو چوک تک سڑک کی تعمیر کا کام جلد مکمل کرانے اور ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



