بدین:سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں تاریخی طلبہ میگزین ’’سارنگ‘‘ 25 سال بعد دوبارہ شائع

بدین (مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ / پی کے)سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں تقریباً 25 سال کے طویل وقفے کے بعد تاریخی طلبہ میگزین ’’سارنگ‘‘ دوبارہ شائع کر دیا گیا میگزین کی مشترکہ رونمائی صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو، سیکریٹری جامعات و بورڈز غلام عباس بلوچ اور وائس چانسلر سندھ زرعی یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کی، وی سی نے یونیورسٹی کی علمی، ادبی اور طلبہ سے متعلق دیرینہ روایات کی بحالی کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا گیا۔

’’سارنگ‘‘ آخری مرتبہ 2001ء میں اس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد چانڈیو کے دور میں شائع ہوا تھا، جس کے بعد تقریباً ایک چوتھائی صدی تک اس کی اشاعت معطل رہی، طویل وقفے کے باعث یونیورسٹی کے کئی افسران، اساتذہ اور طلبہ بھی اس تاریخی میگزین کی روایت سے ناواقف ہوگئے تھے، تاہم موجودہ انتظامیہ کی کوششوں سے اسے ایک بار پھر نئے انداز میں متعارف کرایا گیا ہے

وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ ’’سارنگ‘‘ کی اشاعت کا آغاز یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر اے۔کیو۔ انصاری کے دور میں ہوا تھا اور یہ میگزین یونیورسٹی کی علمی و ادبی تاریخ کا اہم حصہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سارنگ‘‘ میں اساتذہ، طلبہ اور ملازمین کی جانب سے سائنسی، ادبی، زرعی اور ٹیکنالوجی سے متعلق مضامین، یونیورسٹی کی سرگرمیوں پر رپورٹس اور فوٹو البم شائع کئے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ میگزین فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ان کے تعلیمی سفر کی یادگار کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ یونیورسٹی کی تاریخ، سرگرمیوں اور کامیابیوں کو محفوظ کرنے کے حوالے سے ایک اہم ادارہ جاتی آرکائیو کا کردار بھی ادا کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کے حقوق، فلاح و بہبود اور تعلیمی سہولتوں کی بہتری کے لئے اقدامات کر رہی ہے، جب کہ میرٹ کے فروغ، شفافیت اور منصفانہ میرٹ سسٹم کے قیام کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔

صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو اور سیکریٹری جامعات و بورڈز غلام عباس بلوچ نے ’’سارنگ‘‘ میگزین کی دوبارہ اشاعت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وی سی ڈاکٹر الطاف علی سیال کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے یونیورسٹی میں طلبہ کی علمی و تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ اور دیرینہ روایات کی بحالی کے اقدامات کی بھی تعریف کی، تدریسی، علمی اور سماجی حلقوں نے ’’سارنگ‘‘ کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سندھ زرعی یونیورسٹی کے دیگر دیرینہ اور زیرِ التوا منصوبوں کو بھی جلد پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا

مزید خبریں

Back to top button