اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی سمندر میں الٹ گئی، 13 تیونسی شہری لاپتا

 تیونس (ویب ڈیسک) تیونس کے ساحل کے قریب اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 13 تیونسی شہری لاپتا ہوگئے، جبکہ 2 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔

الجزیرہ اور روئٹرز کے مطابق تارکین وطن کی کشتی جمعرات کی صبح تیونس سے روانہ ہوئی تھی اور اٹلی کی جانب جا رہی تھی کہ سمندر میں حادثے کا شکار ہوگئی۔

تیونس آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفیٰ عبدالکبیر نے بتایا کہ کشتی میں سوار 13 افراد تاحال لاپتا ہیں، جبکہ مقامی کشتی کے عملے نے 2 افراد کو سمندر سے نکال کر بچا لیا۔

ایک زندہ بچ جانے والے نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ کشتی الٹنے کے بعد وہ کئی گھنٹوں تک سمندر میں پھنسے رہے، جبکہ دوسرے شخص کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

تیونس گزشتہ کئی برس سے افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے اہم روانگی کا مرکز رہا ہے۔ بڑی تعداد میں تارکین وطن غیر محفوظ اور گنجائش سے زیادہ بھری کشتیوں کے ذریعے خطرناک بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران تیونس سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں تیونسی حکام کا کریک ڈاؤن اور یورپی یونین کے تعاون سے سمندری نگرانی و سرحدی کنٹرول میں سختی شامل ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں یورپی یونین اور تیونس کے درمیان 2023 کے معاہدے پر بھی تنقید کرتی رہی ہیں۔ رواں سال جولائی میں 46 انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا تھا کہ یورپی فنڈنگ کے نتیجے میں تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق 2014 سے اب تک ہزاروں افراد بحیرہ روم عبور کرتے ہوئے جانیں گنوا چکے ہیں، جس کے باعث یہ دنیا کے خطرناک ترین تارکین وطن روٹس میں شمار ہوتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button