کراچی میں بدین کے 3 مزدوروں کی مبینہ گرفتاری پر ورثا کا پریس کلب کے باہر احتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)کراچی میں مزدوری کے لیے جانے والے بدین کے تین مزدوروں کی مبینہ گرفتاری اور ان کے خلاف منشیات کا مقدمہ درج کیے جانے کے خلاف ورثا نے بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے علامتی بھوک ہڑتال کی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ سے واقعے کا نوٹس لینے اور مبینہ طور پر درج مقدمہ ختم کرکے تینوں نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تفصیلات کے مطابق بدین کے علاقے پیر عالی شاہ کوٹ کے رہائشی ملاح برادری کے مردوں، خواتین اور بچوں نے بدین پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال کی۔ اس موقع پر مسماۃ مریم ملاح، نسرین ملاح، رضیہ ملاح، گلزار دلیب اور دیگر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بچے شہباز ملاح، پرویز ملاح اور سچل ملاح روزگار کے سلسلے میں کراچی گئے تھے، جہاں مزدوری کے دوران فیروز آباد تھانے کی پولیس نے انہیں گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا اور مبینہ طور پر آئس منشیات کا مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ کے مختلف علاقوں سے کراچی جا کر محنت مزدوری کرنے والے افراد کو مبینہ طور پر منشیات کے مقدمات میں گرفتار کیا جا رہا ہے، جس سے غریب خاندان شدید پریشانی اور مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی پولیس مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات کے ذریعے مزدوری کے لیے کراچی آنے والے سندھ کے لوگوں کو ہراساں کر رہی ہے ملاح برادری کے افراد نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ شہباز ملاح، پرویز ملاح اور سچل ملاح کے خلاف درج مبینہ جھوٹا مقدمہ فوری طور پر ختم کرکے انہیں رہا کیا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کی پریشانی دور ہوسکے۔

مزید خبریں

Back to top button