عمران خان رہائی کے بعد فوج یا آرمی چیف سے محاذ آرائی نہیں کریں گے،زلفی بخاری کا بڑا بیان

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے، ان کے قریبی ساتھی اور پی ٹی آئی کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو رہا کردیا جائے تو وہ فوج یا آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کریں گے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ذوالفقار بخاری نے عمران خان کو ایک ’’وسیع ظرف‘‘ شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کل رہا بھی کردیا جائے تو وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔
ذوالفقار بخاری کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ یا عسکری قیادت کے ساتھ محاذ آرائی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے بہتر مفاد کیلئے ذاتی دکھ اور تکلیف کو برداشت کرنا ہوگا۔
کیا پی ٹی آئی نے مفاہمت کا راستہ اختیار کرلیا؟
رائٹرز کے مطابق ذوالفقار بخاری کا یہ بیان پی ٹی آئی کی جانب سے فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات میں ممکنہ مفاہمت کی جانب اہم اشارہ قرار دیا جارہا ہے۔
پی ٹی آئی کے حامی گزشتہ کئی برسوں سے آرمی چیف عاصم منیر کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں اور انہیں عمران خان کی گرفتاری اور مقدمات سے جوڑتے ہیں۔ تاہم ذوالفقار بخاری کے حالیہ بیان نے سیاسی منظرنامے میں مفاہمت کے امکانات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نئی امید
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کیلئے 48 گھنٹوں کے اندر جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
ذوالفقار بخاری نے عدالتی فیصلے کو ’’نئی امید کی کرن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی عدالتی ہدایت کی پابندی کرے گی اور کارکنوں و رہنماؤں کو اسپتال کے باہر اجتماع سے روکنے کی ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔
تاہم رپورٹ کے مطابق جمعرات کی سہ پہر تک عمران خان کو اسپتال منتقل نہیں کیا گیا تھا اور یہ بھی واضح نہیں تھا کہ حکومت تکنیکی بنیادوں پر مسترد ہونے والی درخواست کے بعد معاملے کو دوبارہ چیلنج کرے گی یا نہیں۔
تجزیہ کاروں نے اہم سوال اٹھا دیا
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ذوالفقار بخاری کے خیالات لازمی طور پر عمران خان کے اپنے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتے۔ عمران خان کی جانب سے اس بیان پر براہ راست کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حکومت اور عسکری قیادت نے بھی ذوالفقار بخاری کے بیان پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فوج ماضی میں سیاست میں مداخلت کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت قانونی معاملات ہیں۔
ذوالفقار بخاری کے بیان نے ایسے وقت میں مفاہمت، سیاسی کشیدگی میں کمی اور عمران خان کی ممکنہ رہائی کے بعد کے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔



