جلدی امیر بننے کا خواب، جرم تک لے گیا
ایک لفظ نے کھول دیا قتل کا راز! 27 وار، ڈکیتی کا منصوبہ اور پھر لرزہ خیز قتل، دو طالب علم گرفتار

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں 48 سالہ اسکول پرنسپل کالو روپا ریڈی کے لرزہ خیز قتل کا معمہ پولیس نے حل کرنے کا دعویٰ کردیا، پولیس نے قتل اور ڈکیتی کی منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر ملوث دسویں جماعت کے دو طالب علموں کو گرفتار کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق روپا ریڈی 12 اگست کی صبح اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کے جسم پر چاقو کے 27 زخموں کے نشانات تھے، جبکہ واردات کے وقت ان کے شوہر حیدرآباد گئے ہوئے تھے۔
شوہر نے فون پر اہلیہ سے رابطہ نہ ہونے پر پڑوسیوں کو اطلاع دی، جنہوں نے پولیس کو بلایا۔ پولیس ٹیم نے گھر پہنچ کر لاش برآمد کی اور تحقیقات کا آغاز کیا۔
آخری لفظ نے تفتیش کا رخ بدل دیا
قتل کی تحقیقات کیلئے پولیس نے پانچ ٹیمیں تشکیل دیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد، فنگر پرنٹس اور تکنیکی معلومات کی مدد سے مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا۔ پولیس کے مطابق 80 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔
تفتیش میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب پولیس کو معلوم ہوا کہ قتل سے کچھ دیر قبل روپا ریڈی نے اپنی خالہ سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے آخری لفظ ’’بابو‘‘ کہا تھا، جس کے فوراً بعد فون بند ہوگیا۔
سینئر پولیس افسر شرت چندر پوار کے مطابق تفتیش کاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مقتولہ نے ’’بابو‘‘ کہہ کر کس کو مخاطب کیا تھا۔ تحقیقات کا رخ اسکول کے طلبا کی جانب ہوا۔
پولیس نے طلبا سے الگ الگ پوچھ گچھ کی تو دسویں جماعت کے پانچ ایسے طالب علم سامنے آئے جو قتل کے بعد اسکول سے غیر حاضر تھے۔ ان میں سے دو طلبا کے بارے میں پولیس کو معلوم ہوا کہ وہ حالیہ دنوں میں غیر معمولی طور پر رقم خرچ کررہے تھے اور دوستوں کو پارٹیاں بھی دے رہے تھے۔
ڈانٹ سے دشمنی، پھر پانچ دن تک قتل کی منصوبہ بندی
پولیس کے مطابق دونوں طالب علموں کو ماضی میں پرنسپل نے مبینہ طور پر ڈانٹا تھا۔ ان کے ہاسٹل بیگز سے نقد رقم اور موبائل فون ملنے پر والدین سے شکایت بھی کی گئی تھی، جس کے بعد انہیں ہاسٹل میں رہنے کے بجائے روزانہ اسکول آنے والے طلبا میں منتقل کردیا گیا تھا۔
تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ اس کارروائی کے باعث دونوں طلبا میں پرنسپل کے خلاف ناراضی پیدا ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں نے مبینہ طور پر تقریباً پانچ روز تک قتل اور ڈکیتی کا منصوبہ بنایا، پرنسپل کے گھر کی نگرانی کی، چاقو خریدا اور شناخت چھپانے کیلئے دستانے حاصل کیے۔
ڈکیتی ناکام ہوئی تو قتل کردیا؟
پولیس کے مطابق واردات کے روز ایک طالب علم مبینہ طور پر بندر ٹوپی اور دستانے پہن کر روپا ریڈی کے گھر داخل ہوا۔ بیڈ روم سے اسے تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے ملے اور وہ رقم لے کر فرار ہونے لگا۔
تاہم فرار ہوتے وقت اس کی ٹوپی سرک گئی اور روپا ریڈی نے اسے مبینہ طور پر پہچان لیا۔ پولیس کے مطابق شناخت ظاہر ہونے کے خوف سے طالب علم نے خاتون پر چاقو سے 27 مرتبہ وار کیے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں۔
خون آلود نوٹ، آئی فون اور موبائل فون برآمد
پولیس کے مطابق قتل کے بعد ملزمان نے شواہد مٹانے کی کوشش کی اور خون آلود کپڑے و بندر ٹوپی چھپانے کے بعد گوا کا تفریحی سفر بھی کیا۔
پولیس نے دونوں ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 1 لاکھ 54 ہزار بھارتی روپے، ایک آئی فون اور مقتولہ کا موبائل فون برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض برآمد شدہ نوٹوں پر مبینہ طور پر خون کے نشانات بھی پائے گئے۔
دستانے سمیت دیگر اشیا بھی پولیس نے قبضے میں لے لی ہیں جبکہ فرانزک شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
جلدی امیر بننے کا خواب، جرم تک لے گیا
تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ دونوں طالب علموں نے واردات سے قبل ایک ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم پر جلدی پیسہ کمانے کے طریقوں سے متعلق ویڈیوز تلاش کی تھیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان کا ابتدائی منصوبہ رقم حاصل کرنے کیلئے ڈکیتی کرنا تھا، تاہم گھر میں موجود پرنسپل کی جانب سے شناخت ہوجانے کے بعد معاملہ مبینہ طور پر قتل تک جا پہنچا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں مزید شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں اور گرفتار دونوں طالب علموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔



