سنیتا آہوجا نے گووندا سے طلاق کا مقدمہ واپس لے لیا

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)بالی ووڈ اداکار گووندا اور سنیتا آہوجا کے درمیان علیحدگی کی قیاس آرائیوں کو اُس وقت بریک لگ گئی جب سنیتا نے طلاق کی درخواست واپس لے لی۔

گووندا کی ٹیم نے سنیتا آہوجا کی جانب سے طلاق کا مقدمہ واپس لیے جانے کی تصدیق کردی ہے۔ ممبئی کی فیملی کورٹ میں سنیتا اپنے بیٹے یشوردھن آہوجا کے ہمراہ پہنچیں، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر جوڑے کی ازدواجی زندگی سے متعلق چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔

عدالت سے واپسی پر پاپارازی نے سنیتا سے وہاں آنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے مختصر جواب دیا، ’’برتھ ڈے منانے آئی تھی۔‘‘

گووندا کی ٹیم نے مداحوں کو کیا پیغام دیا؟

سنیتا کی عدالت آمد کے بعد سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں، تاہم گووندا کے منیجر ششی سنہا نے واضح کیا کہ فی الحال پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہیں؟ سنیتا نے اپنا کیس واپس لے لیا ہے اور یہ تو خوشی کی بات ہے۔ ان کے مطابق عدالت میں سنیتا قدرے سخت یا ناراض دکھائی دیں تو لوگوں نے سمجھ لیا کہ شاید کوئی نیا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، حالانکہ جوڑے کے درمیان اب سب کچھ ٹھیک ہے۔

سنیتا نے طلاق کی درخواست کیوں دائر کی تھی؟

ذرائع کے مطابق سنیتا آہوجا نے 5 دسمبر 2024 کو ممبئی کی فیملی کورٹ میں ہندو میرج ایکٹ کے تحت طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مبینہ بے وفائی، بدسلوکی اور علیحدگی کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ تاہم اب سنیتا کی جانب سے مقدمہ واپس لیے جانے کے بعد گووندا اور ان کی اہلیہ کے درمیان طلاق کا معاملہ فی الحال ختم ہوگیا ہے۔

گووندا اور سنیتا کی شادی کو کتنے سال ہوئے؟

گووندا اور سنیتا آہوجا 1987 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔ دونوں کے دو بچے ہیں۔ ان کی بیٹی ٹینا آہوجا 37 سال جبکہ بیٹا یشوردھن آہوجا 29 سال کا ہے۔

یوں طلاق کی درخواست، عدالت آمد اور اس کے بعد سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کے باوجود سنیتا کی جانب سے مقدمہ واپس لینے نے جوڑے کے مداحوں کو ایک مرتبہ پھر اطمینان کا موقع فراہم کردیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button